صحرائی علاقہ کے رہائشیوں پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات

ضلع لیہ ،جھنگ اور مظفر گڑھ پنجاب کے ایسے اضلاع ہیں جن کا رقبہ دو طرح کاہے ایک دریائی علاقہ یا نشیبی علاقہ ہے اور دوسرا حصہ صحرائی یا ریتلا علاقہ ہے۔ان اضلاع میں ہمیشہ دو قسم کی آفات کا خطرہ رہتا ہے اگر دریاؤ ں میں پانی زیادہ آئے تو دریائی علاقہ کے لوگوں کے لئے سیلابی آفت بن جاتی ہے۔
ان اضلاع کے صحرائی علاقہ کی فصلات کا انحصار بارشوں پر ہوتا ہے پہلے تو صحرائی علاقہ کے لوگوں کو صرف خشک سالی جسیے آفت کا ڈر رہتا تھا لیکن موسمیاتی تبدیلیوں نے اس علاقہ کے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرنا شروع کردیا ۔ان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے ساتھ تحفظ خوراک بھی خدشہ کا شکار ہے۔بلکہ خوراک میں واضح طور پر کمی ہو رہی ہے ۔صحرائی علاقہ جات کی اہم ترین فصل چنا ہے یہاں کے مقامی لوگوں کی روزی کا اہم ترین ذریعہ چنا کی فصل ہے اب ان علاقوں میں وقت پر بارشیں نہ ہونے سے اس فصل کی کاشت دیر سے ہونے لگی ہے اسی کے ساتھ ان علاقوں میں اس فصل کی برداشت مارچ کے مہینہ میں مکمل کر لی جاتی تھی پچھلے چند سالوں سے جو بارشیں جنوری کے مہینہ میں ہوا کرتی تھیں اب وہ بارشیں مارچ کے مہینہ میں ہو رہی ہیں۔اس وقت فصل پکنے والی ہوتی ہے اس فصل کو کیڑا لگ جاتا ہے وہ فصل کاکا فی حد تک نقصان کر دیتا ہے جہاں پر ان موسمیاتی تبدیلیوں نے مقامی زمیندار کی فصل کا نقصان کیا ہے وہاں پر زرعی مزدور کی معاشی زندگی کو بھی نقصان پہنچایا ہے ۔اس سے پہلے یہ زرعی مزدور ان علاقوں میں چنے کی فصل کی کٹائی کرتا تھا یہ کٹائی کا سلسلہ مار چ کے مہینہ میں اختتام پذیر ہو جاتا تھا ۔اور پھر گندم کی کٹائی کا سلسلہ شرو ع ہوتا تھا اور یہ مزدور اپریل کے مہینہ میں گندم کے علاقوں میں جا کر گندم کی کٹائی کر کے اپنی گھریلو ضروریات کے لئے سال بھر کی گندم اکٹھی کر لیتا تھا اب جبکہ چنا کی فصل کی برداشت بھی اپریل کے مہینہ تک چلی گئی ہے جس سے یہ زرعی مزدور ایک فصل سے مزدوری حاصل کر سکتا ہے اور دوسری فصل یعنی گندم کی مزدوری سے محروم ہو جاتاہے ۔اس وجہ سے ان علاقوں کے رہائشی زرعی مزدور معاشی بدحالی کے ساتھ ساتھ خوراک کی کمی کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔
اس سال 2017 ء ؁ میں ضلع لیہ کی صحرائی تحصیل چوبارہ کی مختلف یونین کونسل میں مارچ اور اپریل کے مہینوں میں انتہائی شدید قسم کی بارشیں ہوئی ہیں جس نے گندم کی کھڑی فصل کی بڑے پیمانے پر تباہی کی ۔صوبائی وزیر آفات و بلیات نے علاقہ کا وزت کیا اور اس علاقہ کو آفت زدہ قرار دیا اور اسی علاقہ کے متاثرہ لوگوں کی مالی امداد کا اعلان بھی کیا۔

تیزی سے بدلتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات زرعی زمین اور دریائی کٹاؤ

پاکستان میں دریائی کٹاؤ اس سال ہر سال کے مقابلہ میں بہت ہی زیادہ ہو رہا ہے نہ صرف متاثرہ علاقہ کے لوگ اس آفت سے پریشان ہیں بلکہ اتنی شدید زمینی کٹاؤ سے گورنمنٹ کے اداروں میں بھی انتہائی تفشیش ناک صورت حال پائی جا رہی ہے اور اسی کے ساتھ سیاسی حلقہ بھی پریشان نظر آرہا ہے۔ اس کی اصل وجہ موسم کی بے جا بدلتی ہوئی صورتحال ہے اور بے موسمی مون سون بارشوں کا سلسلہ ہے اس سے قبل بارشی سلسلہ 15 جولائی سے شروع ہوتا تھا اور 15 ستمبر تک جاری رہتا تھا اسی سلسلہ کے دوران سیلاب میں شدت آتی اور مسلسل سیلابی ریلے دریائی گزر گاہوں سے ایک سطح کو برقرار رکھتے ہوئے گزر جاتے تھے جس سے دریائی علاقہ جات میں زمینی کٹاؤ کم ہوتا تھا جس وقت پانی دریائی کناروں سے بالکل نچلی سطح پر چلا جاتا تھا تو اس سے زمینی کٹاؤ کا دورانیہ بالکل کم بلکہ چند دنوں کا ہو جاتا تھا جس سے مجموعی طور پر دریا کی دونوں اطراف سے کم ایکڑ اراضی دریا برد ہوتی تھی دراصل دریائی کٹاؤ اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب سیلابی ریلے گزرنے کے بعد پانی نچلی سطح پر آرہا ہواور کناروں سے نیچے اتر رہا ہو اس وقت پانی کا بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے جس سے زمین کے کٹاؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
اب جبکہ موسمیاتی تبدیلیاں ہو ئی ہیں جس کی وجہ سے مون سون بارشی سلسلہ جون کے پہلے ہفتہ سے شروع ہو جاتا ہے اوریہ سلسلہ 15 ستمبر تک جاری رہتا ہے یہ مون سون کی بارشیں ایک ساتھ برسنے کی بجائے وقفہ در وقفہ ہو رہی ہیں ۔جس کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کی سطح مختلف وقت میں بلند اور کم ہوتی رہتی ہے۔ایک ہفتہ میں ایک دو بارشیں شدید ہوتی ہیں جیسے پانی کی سطح دریاؤں میں کناروں تک بلند ہو جاتی ہے اور پھر چند دن بارشیں نہیں ہوتی اور پانی اپنی سطح سے نیچے آنا شروع ہو جاتا ہے اور پانی کے بہاؤ کی رفتار میں تیزی آجاتی ہے جس سے زمینی کٹاؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر چند دنوں کے وقفہ کے بعد پھر بارشیں ہو جاتی ہیں ۔اسی سلسلہ کی وجہ سے پانی کی سطح میں اتار و جڑھاؤ کافی عرصہ تک رہتا ہے جس سے دریاکا زمینی کٹاؤ ایک لمبے عرصہ تک جاری رہتا ہے اس سال ضلع لیہ میں شدید دریائی کٹاؤ کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ کے دوسرے مختلف اضلاع میں بھی ہزاروں ایکڑ اراضی دریا برد ہوئی ہے زرعی زمین اور فصلات کے ساتھ ساتھ کئی انسانی آبادیاں اور گھر بھی دریائی کٹاؤ کی زد میں آئے ہیں ۔نہ صرف فصلات تباہ ہوئی ہیں بلکہ کئی گھرانے بے گھر ہوئے ہیں ۔بلکہ گھرانہ ہی نہیں کئی کئی بستیاں دریائی کٹاؤ کی زد میں آگئی ہیں۔کھڑی فصلوں کی تباہ کاری سے نہ صرف مقامی آبادیاں معاشی بدحالی کا شکار ہورہی ہیں بلکہ خوراک کی کمی کے اضافہ کا سبب بنا ہے ۔دریائی کٹاؤ کے لئے مقامی سطح پر اخباری نمائندے انجم سحرائی نے ڈسٹرکٹ فورم کے ممبران اور دوسری میڈیا ٹیموں کے ہمراہ ان علاقوں کا وزٹ کیا ۔اس تباہ کاری کے عملی اقدام کے لئے حکومت سے درخواست کی ہے اس علاقہ کے متاثرین کو جو بے گھر ہیں اور بے زمین ہیں حکومت ان کو گھر بنانے کیلئے زمین کی فراہمی کرے اور ساتھ گھر وں کی تعمیرات کے لئے تعاون کرے۔
اسی کے ساتھ صوبائی وزیرآفات و بلیات مہر اعجاز احمد اچلانہ نے ہمراہ D.C لیہ متاثرہ علاقہ کا وزٹ کیا اس شدید کٹاؤ سے شکار ہونے والی آبادیوں کو متبادل زمین کی فراہمی کا بھی حکم جاری فرمایا اسی کے ساتھ ضلعی سطح پر مزید امداد کی یقین دہانی بھی کرائی۔

صحرائی علاقہ کے رہائشیوں پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات 
ضلع لیہ ،جھنگ اور مظفر گڑھ پنجاب کے ایسے اضلاع ہیں جن کا رقبہ دو طرح کاہے ایک دریائی علاقہ یا نشیبی علاقہ ہے اور دوسرا حصہ صحرائی یا ریتلا علاقہ ہے۔ان اضلاع میں ہمیشہ دو قسم کی آفات کا خطرہ رہتا ہے اگر دریاؤ ں میں پانی زیادہ آئے تو دریائی علاقہ کے لوگوں کے لئے سیلابی آفت بن جاتی ہے۔
ان اضلاع کے صحرائی علاقہ کی فصلات کا انحصار بارشوں پر ہوتا ہے پہلے تو صحرائی علاقہ کے لوگوں کو صرف خشک سالی جسیے آفت کا ڈر رہتا تھا لیکن موسمیاتی تبدیلیوں نے اس علاقہ کے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرنا شروع کردیا ۔ان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے ساتھ تحفظ خوراک بھی خدشہ کا شکار ہے۔بلکہ خوراک میں واضح طور پر کمی ہو رہی ہے ۔صحرائی علاقہ جات کی اہم ترین فصل چنا ہے یہاں کے مقامی لوگوں کی روزی کا اہم ترین ذریعہ چنا کی فصل ہے اب ان علاقوں میں وقت پر بارشیں نہ ہونے سے اس فصل کی کاشت دیر سے ہونے لگی ہے اسی کے ساتھ ان علاقوں میں اس فصل کی برداشت مارچ کے مہینہ میں مکمل کر لی جاتی تھی پچھلے چند سالوں سے جو بارشیں جنوری کے مہینہ میں ہوا کرتی تھیں اب وہ بارشیں مارچ کے مہینہ میں ہو رہی ہیں۔اس وقت فصل پکنے والی ہوتی ہے اس فصل کو کیڑا لگ جاتا ہے وہ فصل کاکا فی حد تک نقصان کر دیتا ہے جہاں پر ان موسمیاتی تبدیلیوں نے مقامی زمیندار کی فصل کا نقصان کیا ہے وہاں پر زرعی مزدور کی معاشی زندگی کو بھی نقصان پہنچایا ہے ۔اس سے پہلے یہ زرعی مزدور ان علاقوں میں چنے کی فصل کی کٹائی کرتا تھا یہ کٹائی کا سلسلہ مار چ کے مہینہ میں اختتام پذیر ہو جاتا تھا ۔اور پھر گندم کی کٹائی کا سلسلہ شرو ع ہوتا تھا اور یہ مزدور اپریل کے مہینہ میں گندم کے علاقوں میں جا کر گندم کی کٹائی کر کے اپنی گھریلو ضروریات کے لئے سال بھر کی گندم اکٹھی کر لیتا تھا اب جبکہ چنا کی فصل کی برداشت بھی اپریل کے مہینہ تک چلی گئی ہے جس سے یہ زرعی مزدور ایک فصل سے مزدوری حاصل کر سکتا ہے اور دوسری فصل یعنی گندم کی مزدوری سے محروم ہو جاتاہے ۔اس وجہ سے ان علاقوں کے رہائشی زرعی مزدور معاشی بدحالی کے ساتھ ساتھ خوراک کی کمی کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔
اس سال 2017 ء ؁ میں ضلع لیہ کی صحرائی تحصیل چوبارہ کی مختلف یونین کونسل میں مارچ اور اپریل کے مہینوں میں انتہائی شدید قسم کی بارشیں ہوئی ہیں جس نے گندم کی کھڑی فصل کی بڑے پیمانے پر تباہی کی ۔صوبائی وزیر آفات و بلیات نے علاقہ کا وزت کیا اور اس علاقہ کو آفت زدہ قرار دیا اور اسی علاقہ کے متاثرہ لوگوں کی مالی امداد کا اعلان بھی کیا۔

Government’s Erratic Allocation in PSDP

The denial of basic human rights and economic deprivation has exacerbated structured poverty and inequality in rural and semi-urban areas of Pakistan. The self-reliant economic development models for men and women still a distant dream despite an increase in country’s gross domestic product (GDP) over 5.28pc.

Like every year, this year also government proudly presented Rs. 4.8 trillion federal budget in contradiction of the ground realities. As the experts comment that the budget is nothing more than the manipulation of statistics and numbers, additionally the maneuvering of people’s aspirations and circumstances.

It is pretty impressive to know that in 2017-18 budget the government has reserved Rs. 2113 billion for public sector development program (PSDP), which is 5.9pc of GDP. Thus, merely for federal PSDP, it is Rs. 1001 billion. Not only this, under the outside federal public sector development program, the Benazir Income Support Programme (BISP) has been allocated Rs. 121 billion.

The major portion of the total expenditure of PSDP budget Rs. 1001 billion have been allocated for federal public sector development program in 2017-18. This is an increase of 25.1pc from last year allocation of Rs 800 billion, of which Rs 715 billion were actually spent. It means that in 2016-17 government spent 85 billion less than the actual estimates.

Of the total federal PSDP in the current year, the government has allocated Rs. 40 and 45 billion for Special Federal Development Program (SFDP) and Relief and Rehabilitation of IDPs accordingly. This is 8pc of total federal PSDP outlay. On the other hand, during 2016-17 government allocated Rs. 28 billion for SFDP and Rs 100 billion to Relief and Rehabilitation of IDPs. It’s total coalesced to Rs. 128 billion but unfortunately remained unspent. This is the worthy point to note that government could not utilize 128 billion.

Furthermore, the corporations – WAPDA and NHA is also the part of federal PSDP. These components have been allocated Rs 380 billion as part of the Federal PSDP for the year 2017-18. This is 38pc of the total federal PSDP provision of Rs 1001 billion. During 2016-17, both these corporations spend Rs 344 billion, which was 48pc of total federal PSDP expenditure of Rs 715 billion. It means that a large portion of the outlay of federal PSDP only goes to these two corporations.

Apart from these corporations, federal PSDP has also some portion of about Rs. 30 billion for Prime Minister’s Global SDGs Achievement Programme in this year. This is 3pc of the total federal PSDP allocation of 2017-18. Last year Rs. 20 billion were allocated but the spending increased up to Rs. 42 billion, double than the actual amount of the total federal outlay of PSDP Rs. 715 billion. In this count major portion of the amount goes for the expenditures of MNAs and MPAs. The situation is messed up in some heads of expenditure, there is zilch expenditure, others have crossed double than actual amount and some heads are lower spent.

In addition to, the Federal Ministries/Divisions have been allocated Rs. 378 billion. This is 38pc of total federal PSDP budget of 2017-18. During 2016-17, Rs. 282 billion was allocated out of total federal PSDP outlay Rs. 715 billion, but spending was increased up to Rs. 298.52 billion. This was 42pc of total federal PSDP. The expenses were over spent in this head than actual estimates.

Above all, the development expenditure outside PSDP has been estimated at Rs 152.2 billion in 2017-18. Last year (2016-17), it was estimated at Rs 156.6 billion, but the actual spend was Rs. 127 billion. It shows that out of total estimated expenditure only 81pc was utilized.

Outside federal public sector development program, the Benazir Income Support Programme (BISP) has been allocated Rs. 121 billion in 2017-18.  However, during 2016-17 the BISP was allocated Rs. 115, but the spending remained to 111 billion less than the actual allocation.

It is upright that government has initiated new projects in federal PSDP 2017-18 budget such as Clean Drinking Water for All, an amount of Rs 12.5 billion has been allocated in this head, about Rs. 5 billion has been earmarked for Special Provision for Competition of CPEC Projects and also an amount of Rs 12.5 billion has been allocated to Energy for All.

To conclude, the federal PSDP expenditure is one the very crucial to reduce poverty and bring about development. Therefore, the government ought to ensure appropriate utilization of the apportioned budget for inclusive sustainable growth.

ماحولیاتی تبدیلیاں، آلودگی میں اضافہ اور ہماری تیاریاں ۔

دنیا بھر میں رونما ہونے والے موسمیاتی تغیرات کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی کمی کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔ یوں تو ان موسمی تبدیلیوں نے دنیا کو بری طرح متاثر کیاہے، لیکن دیگر ممالک نت نئے منصوبوں اور کوششوں کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی میں خاصی حد تک کمی لانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ نیز جنگلی بقاء کے لئے بھی مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں ایسی کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ حالانکہ وطنِ عزیز کی خوش قسمتی ہے کہ یہ ایسے خطّے میں واقع ہے جہاں مختلف موسم رنگ بکھیرتے ہیں، قدرت کی انمول نعمتیں بکھری پڑی ہیں۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث ایک طرف ہمارے جنگلات سمٹ رہے ہیں اور جنگلی حیات نایاب ہوتی جا رہی ہیں ، ملکی آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوتا چلاجا رہا ہے ، صنعتوں و فیکٹریوں کے فضلے کو پروسیسنگ کے بغیر سمندر اور دریاؤں میں بہایا جا رہا ہے ، صفائی کا ناقص انتظام اور درختوں کا بے دریغ کاٹا جانا، تو دوسری طرف ماحولیاتی آلودگی میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہے ہیں

Untitled
بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہر کوئی شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے ۔ پاکستان میں ان تبدیلیوں کے منفی اثرات عوامی سطح پر شعور کی کمی کے باعث سنجیدہ شکل اختیار کر چکے ہیں۔اور جن کو شعور ہے ان کی باتوں کو یوں کہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ جب ٹائم آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ خصوصاً شہری علاقوں میں جابجا گندگی کے ڈھیر اور فضاء میں دھواں چھوڑتی گاڑیاں صحت کے لئے مسائل پیدا کر رہی ہیں جن میں دمہ ، بلڈ پریشر ، ملیریا ، ڈینگی ، چکن گونیا ، زیکا وغیرہ اور آجکل نئی نمودار ہونے والی بیماری لاکڑا کاکڑا جیسی وائیرل بیماریاں پھیلنے سے صحت عامہ کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں ۔
وزیر اعظم پاکستان نے آٹے میں نمک کے برابر ایک نام نہاد پروگرام گرین پاکستان کا آغاز تو کیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کی یہ منصوبہ کبھی پائیہ تکمیل کو بھی پہنچے گا یا اس کا حال بھی دیگر منصوبوں جیسا ہی ہو گا، یا یہ بھی بیرونی فنڈز کا منتظر رہے گا۔ نہ فنڈز ہوں اور نہ منصوبے چلیں۔ کیا ہمارا نظام اتنا مفلوج ہو چکا ہے کہ ہم کوئی منصوبہ یا کام چلا ہی نہیں سکتے، کیا ہمارے پاس مین پاور (Man Power )نہی ہے، یا ہمارے پاس ایسے ساز گار ماحول نہیں جن میں کام کیاجاسکے، یا ہماری نیتیں نہیں ہیں کہ ہم اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہوا دیکھ سکیں ۔ صرف درخت لگانا ہی کافی نہیں اس سے آگے کی بھی حکمت عملی سوچنا پڑے گی۔ 

کیا ہمارا آج کا ایک انسان ، ایسا انسان جو صرف پیسہ کمانے کی مشین بن چکا ہے وہ ہرگز نہیں چاہے گا کہ یہ مشین خراب ہو بلکہ اس کی سر توڑ کوشش ہو گی کہ یہ مشین مسلل چلتی رہے اور پیسہ اکٹھاہوتا رہے۔ لیکن وہ بھول جاتا ہے کہ وہ جس خطہ ارض میں رہ رہا ہے وہ بھی ایک مشین ہی ہے جسے وہ اپنی کو تاہیوں ، لا پرواہیوں اور دلی تسکین کے لئے تباہ وبرباد کر رہا ہے۔ قدرت کا اصول ہے جو کہ ہم وقت کے ساتھ ساتھ شائد بھول جاتے ہیں یاپھر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جو بوؤ گے وہی کاٹو گے اور آج ہم سب یہ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور کو ئی بھی اس سے منکر نہیں۔  ۔