About Arooj Kamran

Media and Communication Officer Indus Consortium

Problems of Pakistan’s Tax system

Governments’ only source of income generation is tax. The generated revenue is then allocated for the expenditures of federal and provincial governments. The major issue or challenge that our society is facing is unequal collection of taxes. People have been highlighting and protesting since so long on unfair tax system. It has always been a hardcore problem for Pakistan’s economy to generate revenue; this is the reason for which our government has looked for Structural Adjustment programme at first. But, the problem still lies with the tax system. Now, this is the government’s core responsibility to identify that issue and take fundamental steps for the solution of those issues.

Government needs to reform the policies specially in the area of giving large number of exemptions in sales tax, income tax, excise duty, and custom duties due to which the incidents of tax evasions takes place. Meanwhile, if we talk about a repeated and frequent change that takes place in the legislation of taxation system that leads to its distortion. I would like to mention here one thing that all the changes that takes place in the taxation system are done just to give exemption to certain elite groups and corporations. Here, one basic question comes in mind that where just, fair and transparent system?

Some highlighted issues; I try to point out here some of serious concerns on narrow tax base and tax evasion. Talking on these challenging issues some questions raise are: why people use to evade taxes? Why corporations and some elite groups are exempted from taxes? Why rich don’t pay their due amount of share? Why only poor are burdened with general sales taxes?

According to the statistics, only 1.21 million citizens pay income tax making it less than 1% of the total population. But according to state bank of Pakistan’s annual report, 57.5 million people are employed and obviously are earning some income and thus 57.5 million people should be paying income tax one way or the other. So, that rules out the figure of tax payers that keeps on floating here and there. Moreover, Pakistan’s total population is around 207 million. According to the common notion, 29% of the population is paying the taxes. But, according to economic survey of Pakistan 61.4% population is of working age making 122 million people fall into the working population. Besides, 57.5 million tax payers constitute of 48% these working people.

Approximately 140 million mobile users pay more than 20% taxes on their consumption. People use automobiles which use fossil fuels that are subject to different taxes and consequently people end up paying them. These are the most certain taxes that probably no one can evade. Now here, what I wanted to highlight is that all the users are paying equal taxes, do you not think that it should be charged on the basis of the income of a user?

The problem lies with the poor management of our existing resources. What if, our government went for progressive tax system instead of regressive one? Progressive tax system is defined as when you impose higher taxes for the people with higher income whereas, lower taxes are going to be imposed for the lower level of people.

To sum, I would like to say that people will surely don’t evade taxes if they don’t find the absence of trust. Whereas, the state should move towards the progressive tax system so that the one who is rich won’t get richer and the one who is poor won’t get poorer. As, people will then find justice to them.  We find the lack of transparency and accountability within the system as well, that make people question that whether the money we’re paying in terms of taxes is being utilized for our own benefits or it being used for satisfying the interests of someone else. Therefore, it is to be recommended that the government should make reform in the tax system, there is a badly need of using modern technology to analyze data, ensure the level of trust, accountability and transparency for achieving better tax system.

 

 

 

 

پنجابی ہو تو پنجابی کیو ں نہیں بولتے؟

بیوی شوہر سے۔بنٹی کے پاپا، آپ سے ایک بات کرنی تھی۔
شوہر نے جواب دیا۔ہاں کہو؟
بیوی بولی۔ہمارے پڑوس میں جب سے نئی فیملی آئی ہے ہمارا بنٹی بگڑسا گیا ہے۔
شوہرنے حیرت زدہ ہو کر پوچھا۔کیا مطلب؟
بیوی نے مضحکہ خیز انداز میں کہا مطلب یہ کہ ہمارے پڑوسی پینڈو سے ہیں پنجابی بولتے ہیں۔بھلا آج کل کون پنجابی بولتا ہے۔(قہقہ لگاتے ہوتے)آج کل تو انگلش کا زمانہ ہے بھئی لجن جب سے ہمارا بنٹی بھی انکے بچے کے ساتھ کھیلنے لگا ہے اُسکا بول چال بھی بدلا بدلا سا ہے۔
شوہر نے کہا۔یہ تو اچھی بات نہیں ۔ہم اپنے بچے کے مستقبل کیلئے اتنی منصوبے بنا رہے ہیں اوریہ پنجابی سیکھنے بیٹھ گیا۔کون بولتا ہے آج کل پنجابی ،کرتا ہوں میں اس سے بات۔

دوستو! مندرجہ بالا وہ کہانی ہے جو ہم پنجابیوں کے گھر میں کبھی نہ کبھی ضرور دوہرائی جاتی ہے۔کیا کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا کہ ایسا کیوں ہے؟پاکستان میں بسنے والے تمام افراد علاقائی اور ثقافتی طور پر اپنے پہناوے، بول چال اور رہن سہن کے اعتبارسے کیوں مختلف ہیں ۔بلوچستان میں رہنے والا شخص بلوچی بولے گا، خیبر پختونخوا میں رہنے میں پشتو اور دیگر علاقائی زبانیں بولے گا، اسے طرح سندھ میں رہنے والاسندھی ۔لیکن پنجاب میں رہنے والا پنجابی سے زیادہ اپنی قومی زبان اردو کو ترجیح دیتا ہے۔اسی طرح علاقائی، ثقافتی اورمذہبی اعتبار سے بھی پاکستان میں متعدد زبانیں بولی جاتی ہیں جیسے کہ سرائکی، کشمیر ی، مارواری، گجراتی، ہندکو، پہاڑی ،دہروی وغیرہ وغیرہ ۔اگر ان زبانوں کے بولنے والے ملک کے کسی کونے میں بھی کیوں نہ چلے جائیں وہ اپنے ہم زبان سے اپنی علاقائی یا ماں بولی میں بات کرے گا۔لیکن پنجابی دوسرے پنجابی کو دیکھ کرپنجابی میں بات نہیں کرے گا۔

بچپن میں جب ہم اپنے والدین کے ساتھ گاؤں جاتے تھے تو وہاں ہمارے شہری پہناوے اور خصوصاً ہمیں اردو بولتا دیکھ کر گاؤں کے لوگ بالخصوص بچے حسرت بھری نگاہوں سے ایسے دیکھتے تھے جیسے ہم لاہور سے نہیں امریکہ، یورپ یا لندن سے آئے ہیں۔اور واپس آکر اگر ہم ایک آدھ جملہ پنجابی کا سیکھ لیتے تو والدین ڈانٹ دیتے کہ خبردار پنجابی بولی تو۔انگلش میڈیم میں کس لئے پڑھا رہے ہیں آپکو۔اُس دور میں کم از کم گاؤں دیہاتوں میں رہنے والی پنجا بی تمام کنبہ ہی اپنی علاقائی زبان یعنی پنجابی میں بات کرتے تھے۔ لیکن آج ایسا بالکل نہیں ہے۔ ماں باپ چاہے آپس میں پنجابی بولیں لیکن اپنے بچے کو پنجابی بولتا کبھی نہیں دیکھ سکتے۔الٹا اگر کوئی بولنے کی کوشش بھی کرے تو اسکو ڈانٹ دیا جاتا ہے ۔

ویسے پنجابی بولے جانے پر ہم اتنا خوف زدہ کیوں ہیں؟ کون ہے اسکا ذمہ دار؟ والدین؟ تعلیمی اور پالیسی ساز ادارے ؟ حکومتِ وقت ؟ ہمارا معاشرہ؟یا وہ لوگ جن کے بارے میں ہمارے بڑے ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں “لوکی کی کہن گے” ۔کبھی ہم نے سوچا کہ اگرساری زند گی ایک انگریز ماں باپ کی اولادپختون، بنگالی یا سندھی کے گھر پلے بڑھے تو وہ بھی اس گھر میں رہنے والوں جیسا رنگ ڈھنگ اختیار کرے گا، اور انگریزی نہیں بلکہ اس گھر میں بولی جانے والی زبان بولے گا۔ لیکن یہ کلیہ بھی پنجابیوں پر لاگو نہیں ہوتا۔

ذیادہ دُور نہ جائیں تواپنے ہمسایہ ملک بھارت میں رہنے سکھ برادری کو ہی دیکھ لیں ۔یہ برادری کہیں بھی ہواپنی ثقافت کو نہیں بھولتی بلکہ اسکے فروغ کے لئے ہر ایک فرد پیش پیش نظر آتا ہے۔ دنیا کے کسی کونے میں بھی چلے جائیں پنجابی پنجابی کو دیکھ کہ اپنی ماں بولی میں بات کرتا ہے۔لیکن یہ روایت بھی بارڈر پارپاکستانی پنجابیوں میں نہیں پائی جاتی۔بلکہ اگر کوئی غلطی سے پنجابی بولتا پایا جائے تو اسکودوسرا پنجابی ہی اس حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جیسے اس شخص نے کوئی قابلِ شرم کام کر ڈالا ہو۔دیکھو کتناپینڈو ہے پنجابی میں بات کر رہا ہے۔ ہمارے بچے تو انگریزی میڈیم میں پڑھتے ہیں ہم نہیں بننے دینگے انکو پینڈو۔

میرے داد اابو کی شادی پنجابی گھرانے میں ہوئی جبکہ وہ پٹھان تھے۔یہ روایت انہوں نے میرے والد سمیت تمام بیٹے بیٹیوں کی شادیوں کیلئے برقرار رکھی۔لہذا پنجاب میں رہنے اور پنجابیوں میں شادی ہوتے ہوتے سب پنجابی ہو گئے۔ لیکن پنجابی زبان تو پھر بھی نہ بولی گئی۔اور اگر بولی بھی گئی تو صرف والدین کی پیڑھی تک۔میرے ذہن میں اکثر یہ سوال اُٹھتا ہے کہ آخر کیوں؟ کیا یہ زبان بولناہمارے لئے شرمناک بات ہے؟ ہم کوشش کرتے ہیں کہ پنجابی بولنا تو دور کی بات ہمارا لہجہ تک پنجابی نہ ہو۔اور اس ناپسندیدگی میں پنجابی ہی پنجابی کو رد کرتادکیائی دیتاہے۔میں نے یہ تک سنا ہے کہ اس شخص سے پروگرام کی نظامت نہیں دینی چاہئے کیونکہ اسکا لہجہ بہت پنجابی ہے۔بھئی واہ! کیا انصاف ہے۔ لہذا اگر ہمارا لہجہ پنجابی ہے تو ہم کسی سے کمتر ہو گئے۔پنجابی لہجہ ہونا یا پنجابی بولا جانا صلاحیت، علم اور ہنر کے ہونے یا نہ ہونے تو طے تو نہیں کرتی۔ کیا کبھی کسی نے ایک پختون کو، سندھی کو، فارسی کو اردویا انگریزی بولتے سُنا ہے۔انکے لہجے سے سو فیصد ان کی ماں بولی کی جھلک ملتی ہے جوکہ انکے لئے قابل فخر بات ہے توایک پنجابی کیلئے کیوں نہیں؟

ہم کتنے روپے خرچ کر کے انگریزی، جرمن اور اب تو چینی زبان بھی سیکھ رہے ہیں تا کہ ہم دوسری قوم کے ساتھ اسکی ثقافت بانٹ سکیں، اس سے روابط بڑھا سکیں ۔لیکن اپنی ماں بولی کو سیکھنے سکھانے بولے جانے کیلئے ہم نے کیا کوششیں کی؟ یہاں میرا استفسا ر ہے نہیں کہ دوسری زبانیں نہ سیکھی جائیں بلکہ صرف اتنی التجا ہے کہ اپنی ثقافت کو مرنے سے بچایا جائے۔یقین جانئے ۔اگرپنجابی قوم نے اپنی ثقافت بچانے کیلئے اب کچھ نہیں کیا تو چند سالوں میں۔جی ہاں گنتی کے چند سالوں میں پنجابی زبان درحقیقت کیا ہے؟لکھنا تو دور کی بات بولی کیسے جاتی ہے اسکے لئے ہمیں تاریخ کی کتابیں کھولنی پڑیں گی؟

انساني حقن جي بيحرمتي يا لتاڙ

پوري دنيا ۾ ڪيترن ئي قسمن جا قانون سرڪل ڪن ٿا. انهن ۾ ڪيترا اهڙا قانون آهن جيڪي باقائدي فائدي مند آهن. يقينن سڀ فائدي مند هوندا پر عمل ڪيترن تي ٿي رهيو آهي.انهن قانونن مان هڪ اهڙو به قانون آهي جيڪو صرف عورتن لاءِ ٺاهيو ويو آهي. جنهن کي سيڊا چيو ويندو آهي. سڄي دنيا جي عالمي حڪومتن تي هي پدهر نامو اوڻهين سو اوڻها سي1989 ۾ نافظ ڪيو ويو. ان ۾ بلڪل واضع ءِ چٽا ٽيهه 30 نقتا رکيا ويا.

هي پدهرنامو عورتن سان جيڪي امتيازي سلوڪ ڪيو وڃي ٿو. ان کي نظر ۾ رکندي جوڙيو ويو هو. اڄ ان ڳالهه کي هيترو وقت گذري چڪو آهي. هن پدهر نامي تي ڪيترو عمل ڪيو ويو آهي. مٿهين ليول تي ڪيترا ئي دفعه هن جي رپورٽ به انساني حقوق واري عالمي اداري کي موڪلي وئي پر ڇا ان جو ڪو نتيجو نڪتو. جي ڪنهن به ملڪ جي ڳالهه ڪجي ته سيڊا جي باري ۾ ان ملڪ جي لوڪل عورت کي ڪيتري خبر آهي.عورت تي اڃ به تشدد ڪيو ٿو وڃي، ان کي تزليل ڪيو ٿو وڃي،جنسي هراسان ڪيو ٿو وڃي. هر ڏينهن اخبارون سنسني خيز خبرن سان ڀريون پيون هونديون آهن. جن ۾ اسي فيسد عورتن سان ٿيندڙ وارداتون يا واقعا هوندا آهن.

 اسان جي سماج ۾هڪ اٻوجھ ءِ هيڻي عورت تي ڏاڊ ءِ جبر جي زور تي جسماني ءِ ذهني تشدد ڪيو ٿو وڃي. ايستائين جو هو مرڻ جي حالت تائين پهچي وڃي ٿي. رتو ڇاڻ ٿيو وڃي . پر پوءِ به ان ظلم جي خلاف پنهنجو آواز بلند نٿي ڪري. اهو به نٿي سوچي ته جيڪڏهن اڄ آئون هي ظلم چٰپ چاپ سهنديس ته هي سلسلو منهنجي نسلن تائين هلندو رهندو. سيڊا واري قانون جي آرٽيڪل نمبر اٺ مطابق عورت کي پورو حق آهي ته هو پنهنجي مرضي سان ووٽ ڏي يا اقتدار ۾ اچي. پر هتي ته ان قانون جي صورتحال اهڙي بڻائي ويندي آهي جو عورت ووٽ ڏي ته وڏيري يا مڙس جي مرضي سان ڏي يا ته وري ڏي ئي نه اقتدار ۾ اچڻ لاء صرف معتبر شخصيتن جي گھراڻن جون عورتون ئي بهتر ڪردار آهن.  انهن کان سواءِ ٻيو ڪو به نه ڪڏهن ڪنهن سوچيو آهي ته ملڪ ۾ ڪيترو ٽيلنٽ ڀريو پيو آهي. جيڪو پڻ استعمال ڪرڻ جوڳو آهي.

هتي عورت جنهن گهاڻي ۾ صدين کان پسجندي اچي پئي اڃ به پٽ پيدا نه ڪرڻ تي هن کي ڪٰهاڙيون لڳن ٿيون. اڃ به هن ملڪ جي انتهائي خراب صورت حال کي سڀ کان وڌيڪ عورت ئي ڀوڳي رهي آهي. هو گرمي،سردي،بارش جهڙيون سڀ تڪليفون سهندي به پنهنجي قائد کي کٽائڻ لاء روڊ تي پنهنجي سنهن بچن سميت ويٺي هوندي آهي. هن جي قائد کي اها خبر ئي نه آهي ته هن جا پنهنجا ذاتي ڪيترا ءِ ڪهڙا مسئلا آهن. هاڻي پارٽين لاء مسئلو حل ڪرائڻ ايگو، انا جي صورتحال اختيار ڪري چڪو آهي. ان ۾ پيڙهجي پئي مظلوم عورت جنهن کي ڊهال بڻائي استعمال ڪيو پيو وڃي. ڇا انهي ظلم جي ڪا حد آهي؟

 آخر ڪيسيتائين هي ظلم هلندو. جهمهوريت جي ڳالهه ٿي رهي آهي. پر ان جهمهوري نظام ۾ ڪو به بهتري جو آسرو نظر نٿو اچي. جنهن کي ڏسي چئجي ته مسئلا حل جي طرف وڃي رهيا آهن. پاڪستان جو آئين چوي ٿو ته آئون انساني حقن جو تحفظ ڪندس. انهن جي زندگين جو تحفظ ڪندس پر اڃ ملڪ ۾ جيڪا صوتحال پکڙيل آهي. اهو ڏسندي صاف واضع ٿيو وڃي ته هي انساني حقن جي بيحرمتي آهي. هڪ عام ماڻهون کي اهي قانون پورا حق ڏياري سگھندا يا نه ؟

“IMPROPER DISPOSAL OF WASTE”

A debonair teenager Ali, a student of University and an active speaker on current issues of the country, wearing a brown and white sweater and spectacles. He went out to university early in the morning. After attending lectures, he went to café. The cafe was full of disposable waste on the floor despite the fact this throwing of garbage everywhere is a major source of land pollution, flood, and diseases of which we the erudite are the primary source. He sat on a chair along with red table in front of him. Reading the newspaper looking worried about the situation of our beloved developed country Pakistan, ordered Fanta and channa chaat. After finishing his meal, he threw can on the floor by following footsteps of his other mates. Our educated audience who call themselves sophisticated but he turned a blind eye towards the environment.