Biogas Plant Design

design

چالیس ہزار روپے میں پاکستانی گھر سولر انرجی پر منتقل

386227_303384709694036_624041453_n
موجودہ صورت حال میں پاکستان کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں سارا سال سورج چمکتا ہے۔ چنانچہ یہاں آسانی سے بڑی مقدار میں شمسی توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔پاکستان میں اس شعبے میں پیش رفت ہورہی ہے۔ عام افراد اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شمسی توانائی سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ اس موضوع پر گفتگو کے لیے امریکی ادارے نے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا ، جس میں ٹیلی فون کے ذریعے اسلام آباد سے پاکستان آلٹر نیٹ انرجی بورڈ کے چیئر مین عارف علاؤالدین صاحب ، کراچی سے یو این ڈی پی کے پاکستان میں جاری سمال گرانٹس پروگرام کے نیشنل کوآرڈی نیٹر مسعود لوہار، لاس اینجلس کیلی فورنیا سے سولر انرجی کے ماہر اور دنیا بھر میں ایل ای ڈی لائٹنگ سے متعلق صف اول کی ایک کمپنی لیڈٹرانکس کے فاؤنڈر اور سی ای او، جناب پرویز لودھی ، اور کراچی سے پاکستان میں سولر پینل بنانے والی ایک ممتاز کمپنی شان ٹکنالوجیز کے سولر ایکسپرٹ شاہد صدیقی شریک ہوئے۔

لیڈٹرانکس کے فاؤنڈر اور سی ای او پرویز لودھی نے کہا کہ شمسی توانائی کا استعمال گزشتہ کچھ برسوں میں پوری دنیا میں بڑھ رہا ہے لیکن اس کے بارے میں عام لوگوں کو زیادہ معلومات نہیں ہیں ۔ جس کی وجہ سے اس سسٹم سے لوگوں کی توقعات بڑھ جاتی ہیں اور وہ کئی غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں ۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سولر پینلز سورج سے بہت سی روشنی کو لے کرقلیل مقدار میں بجلی پیدا کرتے ہیں ، اس لیے اس کا استعمال احتیا ط سے کرنا چاہیے اور روشنی کے لیے ایل ای ڈی بلب استعمال کرنے چاہیں۔

اسد محمود نے کہا کہ صرف ایل ای ڈی بلب ہی نہیں بلکہ گھر کی دوسری چیزیں بھی سولر انرجی سے مطابقت رکھنے والی ہونی چاہیں ۔ سولر انرجی ڈی سی کرنٹ پیدا کرتی ہے اس لیے اس پر وہی مشینیں چلانی چاہییں جو ڈی سی کرنٹ پر چلیں اور سولر سسٹم کی لاگت کو کم کرنے کے لیے سسٹم کے ساتھ منسلک دوسرے آلات بھی انرجی ایفیشنٹ ہونے چاہییں۔ انہوں نے تجویز دی کہ سولر سسٹم کی موجودہ لاگت کے پیش نظر پریکٹیکل یہ ہے کہ گھر کا پورا سسٹم سولر پر نہ کریں بلکہ صرف اسے بیک اپ کے طور پر استعمال کریں۔بالکل اسی طرح جیسے بجلی چلے جانے کی صورت میں جنریٹر کو بیک اپ کے طور پر رکھا جاتاہے ۔

شاہد صدیقی صاحب نے بتایا کہ پاکستان کے کسی بھی علاقے میں لوڈ شیڈنگ کے وقت یا بجلی چلے جانے کی صورت میں یا جن علاقوں میں بجلی نہیں ہے ، گھر کا ایک کمرہ روشن کرنے کے لیے سولر پینل کے سب سے چھوٹے سسٹم کو انسٹال کرنے پر چار سے پانچ ہزار یا زیادہ سے زیادہ دس ہزار روپے خرچ ہو سکتے ہیں ۔ا ور اسی طرح اگر اس کے ساتھ ایک پنکھا بھی چلانا چاہیں تو یہ لاگت اسی حساب سے بڑھتی جائے گی لیکن یہ سب سرمایہ کاری صرف ایک بار کی ہوگی ا ور اس کے نتیجے میں بجلی کے بل کی جو بچت ہو گی و ہ بہت جلد آپ کا خرچہ آپ کو واپس کر دے گی۔ لیکن ضروری ہے کہ روشنی ایل ای ڈی ہو پنکھا ڈی سی کرنٹ پر چلتا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں لوگ سولر سسٹم لگانے کے لیے موجود ہیں لیکن یہ سولر پینل الیکٹریکل کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص انسٹال کر سکتا ہے

دھان/ چاول فص

دھان پا کستان میں غزا حاصل کرنے کے لیے اگائی جانے والی دوسری اہم فصل ہے۔ اسے دنیا بھر میں بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ بالخصوص مشرق وسطٰی، لاطینی امریکہ اور ویسٹ انڈیز کے علاقوں میں اس کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں گندم اور کپاس کے بعد تیسری اہم اور منافع بخش فصل ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی طور پر اس کی مانگ سال بھر رہتی ہے۔ لہٰذا اسے بیشتر ممالک میں برآمد بھی کیا جاتا ہے۔ مارکیٹ کی اسی دیمانڈ کی وجہ سے اب کاشت کار دھان اُگانے کی جانب زیادہ تیزی سے راغب ہو رہے ہیں اور دھان کی کاشت کے رقبے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن دوسرے مُمالک کے مقابلےمیں دھان کی فی ایکڑ پیداوار بہت کم ہے۔

استعمال شدہ بیج کی اقسام ، فصل میں بیماریاں اور موسمی حالات وہ اہم وجوہات ہیں جو دھان کی پیداوار میں کمی کا سبب بنتی ہیں ۔ عمدہ پیداوار کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ معیاری بیج کا استعمال کیا جائے اور فصل کو جڑی بوٹیوں، بیماریوں اور کیڑوں سے محفوظ رکھا جائے ۔

بائر کراپ سائنس کا عزم ہے کہ کاشت کاروں کی صلاحیتوں کو اس قدر پروان چڑھایا جائے کہ وہ آنے والی نسلوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرسکیں۔ بائر کرپ سائنس کی ٹیم کاشت کاروں کو مکمل حل فراہم کرتی ہے کہ وہ بہتر کاشت کرکے زیادہ منافع کما سکیں۔ بائر کی جدید مصنوعات بجائی سے کٹائی تک ہر مرحلے میں دھان کے کاشت کاروں کو مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔

Importance and Value of Trees

Since the beginning, trees have furnished us with two of life’s essentials, food and oxygen. As we evolved, they provided additional necessities such as shelter, medicine, and tools. Today, their value continues to increase and more benefits of trees are being discovered as their role expands to satisfy the needs created by our modern lifestyles.