خوشحالی بمقابلہ خشک سالی

محب وطن کہتے ہیں کسی ملک کی خوشحالی اور ترقی کو دیکھنا ہو کہ اس پہ خدا کا کتنا کرم ہے تو اس ملک کے لوگوں سے پوچھیں ان کے پاس سمندر ہے پھر یہ دیکھیں کہ اس کے پاس پہاڑاور گلیشئیر ہیں دنیا کی آٹھ بلند ترین اور خوبصورت چوٹیوں میں سے چھے پاکستان کے پاس ہیں پاکستان کا 40%رقبہ میدانی ہے جس پہ مختلف قسم کی فصلات اگائی جاتی ہیں سب سے بڑا نہری نظام پاکستان کے پاس ہے ،خزاں،بہار ،موسم گرما،سرما پاکستان کے حصے میں آتا ہے ۔
اگر ماضی میں دکھیں اور اپنے بزرگوں سے پوچھیں تو وہ بتاتے ہیں ان کا دور بہت ہی اچھا تھا ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی تھی سبزہ ہی سبزہ ہوتا تھا قسم قسم کے رنگ برنگی پرندے بدلتے موسم کے ساتھ ان کی زندگی میں رنگ بکھیرتے تھے صبح کی جاگ چڑیوں کی سریلی اواز سے ہوتی تھی ۔پت جھڑ کے موسم میں نیم کے پتوں سے بھرے آنگن میں چلنے سے سارے گھر میں اواز سے عجیب سا سرور ہوتا تھا ۔لیکن اب نا رنگ برنگی پرندے رہے نادرخت موسمیاتی تبدیلیوں کے ایٹم بم نے سب تباہ کر دیا گلوبل وارمنگ سے خوشحالی خشک سالی میں تبدیل ہو گئی ہے پرندوں کی سریلی اواز کی جگہ اب گرم ہواوٗں کی شائیں شائیں سنائی دیتی ہیں درخت کی ٹھنڈی چھاوٗں کی جگہ اب جحھلسا دینے والی گرمی ہوتی ہے دریا خشک ہو رہے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی بدلتی صورت حال پہ قابو نا پایا گیا تو زمیں کا چپہ چپہ بنجر بن جائے گا زمین بھی کائنات کے دوسرے سیاروں کیماند نذر آنے لگے گی موسم گرما کا دورانیہ ناقابل برداشت حد تک بڑھ جائے گا گلیشیئر پگھل کر سمندر کا حصہ بن جائیں گے تب خوشحالی صرف تاریخی کتابوں اور میوزیم کی حد تک ہوگی ۔
دنیا کا ہر بندہ اس کا زمہ دار ہے ابھی بھی وقت ہے ہمیں گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنا ہو گا اس سے پہلے کہ وقت ہمارے ہاتھوں سے وقت نکل جائے ہمیں ابھی سے مل بیٹھ کہ مناسب لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا ماحول ہمارہ گھر ہے جس طرح ہم اپنے گھر کی ایک ایک چیز کا احساس اور خیال رکھتے ہیں ویسے ماحول کا خیال رکھنا ہو گا اسے بھی I.C.Uکی ضرورت ہے تا کہ آنے والے وقتوں میں خوشحالی ڈیڈ نا ہو جائے۔

موسمیاتی تبدیلیاں اور ہماری ذمہ داریاں

پاکستان سمیت دنیابھرمیں 16اکتوبر 2016کو عالمی خوراک کا دن منایا گیا جس کا موضوع ’’موسم بدل رہے ہیں خوراک اور زاعت کو بھی بدلنا ہوگا ‘‘موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت گذشتہ چند برسوں سے مسلسل بڑھ رہی ہے گرین ہاؤس گیسز جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین گیسوں کی زیادتی نے پورے ماحول میں بگاڑ پیدا کردیا ہے اور اسط درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے زراعت اورخوراک کی پیداوار میں کمی کی قلعت کا سبب بنتا جارہا ہے زرعیاتی موسمیاتی کیلنڈر میں فرق آگیا ہے زراعت کی پیداوار میں مسلسل کمی ہوتی جارہی ہے اور سخت گرمی کی وجہ سے مٹی سے پانی بخارات بن کر اڑ جاتے ہیں اور مٹی کے زیادہ عرصہ تک خشک ہونے کی وجہ سے خشک سالی کے خدشے کا خطرہ بھی بڑھتا جارہاہے سابق وزیر زراعت ڈاکٹر امیر محمد کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کی اقتصادیات کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں موسمیاتی تبدیلیوں سے زرعی سیکٹر اور وائلڈ لائف کو سب سے بٖڑا چیلنج درپیش ہے ضرورت اس امر کی ہے موسمیاتی اثرات سے بچنے کیلئے خاطر قابل عمل پالیسی سازی کی ضرورت ہے مختلف خطوں کی سطح پر مشاورت اور باہمی تعاون کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے اور حکومتی موسمیاتی تبدیلیوں پر پر مبنی اداروں کی تشکیل کو بھی یقینی بنا کر مناسب حکمت عملی پالیسی اور قانون سازی کر کے اس کے عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے سب سے پہلے ہمیں مقامی سطح سے آغاز کرنا ہوگا درختوں کے کٹاؤ کی رفتار کو کم سے کم کر کے گھر محلہ گلی اور پھر شہر کی سطح پر زیادہ سے زیادہ پھل دار سایہ دار درخت لگانا ہونگے کوڑاکرکٹ اورگلے سڑے پتوں کو اکھاڑ کرنے اور جلانے کی بجائے درست انداز میں ضائع کرنا ہوگا اسی طرح پودوں اور کھیتوں کو زیادہ پانی مت دیں استعمال شدہ آئل کو گٹر میں بہانے سے گریز کریں کیونکہ یہ زیرزمین پانی کو آلودہ کر دیتا ہے اسی طرح مقامی سطح سے ہمیں صوبائی اور قومی سطح پر بھی اقدامات اٹھانا ہونگے اس کیلئے آگاہی بہت ضروری ہے کیونکہ بہت سے لوگ موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل کو سمجھتے ہی نہیں ہیں ہمیں زیادہ سے زیادہ دوستوں رشتہ داروں اور ساتھیوں کو بتانا ہوگا اور آواز اٹھانا ہوگی صوبہ پنجاب کی سطح پر آکسفیم اور انڈس کنسورشیم کے تعاون سے گھرگھر اگاؤ مہم کا آغاز ہو چکا ہے اس مہم کا مقصد زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر آگاہی دینا ہوگی اور صوبائی سطح پر سرکاری ونیم سرکاریاداروں سے مل کر مناسب پالیسیوں کی تشکیل ہے ہمیں اس مہم کا حصہ بننا چاہیے۔