افلاس اورمعاشرتی برائئ

اللہ رب العزت نے انسان کو کیا کچھ نہی دیا، یا صبر مانگا ہے ۔ اور بدلے میں سب کچھ دیا ہے۔ قرآنِ پاک میں ہے:۔

“وہ شخص ہم میں سے نہی، جو اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی نہ پسند کرے جو اپنے لئے کرتا ہے۔”

اس سے صاف صاف واضح ہے کہ انسان خود کی بلکہ دوسروں کی خوشی اور خوشحالی کے لئے اک اہم ستون ہے ۔ اور یہ انسان پر فرض ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کا خیال رکھےاور انکی بھلائی کے لئے کو ششیں کرتا رہے۔

آج کچھ ہو ا یوں کہ گرم دن تھا ، اور روزہ کی شدت بھی کافی تھی میں مکمل طور پر نڈھال تھا ، پیاس سے گلا خوشک اور بھوک سے پیٹ درد تھا۔ پورا دن دوستوں کے ساتھ گزارا ، اور اب شام کا وقت ہو رہا تھا اور افطار کا وقت قریب تھا ، اور ہوسٹل میں رہنے کی وجہ سے میں افطاری و سحری کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتا تھا تو اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ اک قریبی مسجد کی طرف چل دیا۔ آہستہ آہستہ راستے میں باتیں کرتے گئے اور مسجد پہنچ گئے۔

مسجد پہنچ کے وضو کیا افطار کے لئے لگائی گئی لائن میں آ کے بیٹھ گئے۔ مسجد میں نعتیں پڑہی جا رہی تھیں اور حمدیہ کلام بھی۔ تو میں ان کو سننے اور پڑھنےمیں مصروف ہو گیا۔ مگر میری نظر گھڑی پر ہی جمی ہو ئی تھی کہ کب افطار کا وقت ہو گا۔ وقت گزرتا گیا اور افطار کا وقت قریب آن پہنچا ۔ مسجد انتظامیہ کی طرف سے پلیٹیں دی گئ جن میں افطاری کے لئے دو کھجوریں ،  کیلا، آڑو، پکوڑا، سموسہ اور کچھ مزید پھل بھی تھے ، ساتھ ہی ساتھ روح افزا ء بھی پیش کیا گیا۔ یہ سب چیزیں دیکھ کر میرا دل خوشی سی کھِل اٹھا۔

کچھ ہی لمحوں میں اذان کی آواز آتی ہے اور ہم سب روزہ افطار کرتے ہیں۔ میں جلدی سے کھجور کھاتا ہوں اور پانی پر لپکتا ہوں کہ پیتے پیتے میری نظر سامنے بیٹھے  شخص پر پڑتی ہے اور دیکھ کر میں رک جاتا ہوں، سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں،  اُس شخص کی آنکھوں میں پانی اور وہ چپکے سے سب کچھ اک تھلے میں ڈال رہا تھا۔ جو مجھے محسوس ہوا یہ کوئی مجبور آدمی لگ رہا تھا جو اپنے بچوں کے لئے ایسا کر رہا تھا۔ اُس وقت اللہ پاک نے میرا دل نرا کیا اور میں نے اپنی پلیٹ بھی اُس شخص کے حوالے کر دی۔ اس نے وہ بھی اپنے تھیلے میں ڈال لی۔ مجھے اُس کی مدد کر کے دلی سکون ملا اور میں رو پڑا اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ تو نے بہت دیا ہے۔ ابھی  میری بھوک کی شدت تو ویسے ہی تھی اور کھانے کو میرے پاس کچھ بھی نہی تھا۔ اتنے میں اللہ کا کرم ہوا ، مسجد انتظامیہ والے آئے اور مجھے پھلے سے بھی زیادہ دے گئے۔ یہ دیکھ کر میں رو پڑا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے میرا دل ایسے بدلہ کی میں اللہ کے قریب ہوتا گیا۔ اور اللہ کے قریب ہونے کا جو راستہ نکلاوہ بس اتنا کہ

“خود کو مار کر دے زندگی اوروں کو”

ان سب سے اک ہی نتیجہ اخذ کیا ہے میں نے کہ آپ انسانیت کی خدمت کرو ، اللہ پاک آپ کو کبھی مایوس نہی کرے گا۔ اور ہر حال میں صبر کا دامن ہاتھ سے نا چھوڑا جائے ۔ ایسی اور بھی بہت سی  کہاوتیں آپ نے پڑہی اور سنی ہوں گیں۔ جن کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہمارے اندر صبر ، شکراور بھائی چارے کا جو جذبہ کم ہوتا چلا جا رہا ہے ، اُس پر کام کیا جائے اور اُسے زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے ۔ اور اس کام میں اللہ پاک بھی ہمارا ساتھ ہے۔ اس بات میں اب کوئی دو رائے نہیں کہ انسان کی خوشحالی  دوسروں کی خوشحالی سے ہے اور ہمیں اس کے لئے کافی کام کرنا ہے۔ ویسے بھی تمام مسلمان تو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ اور ہم سب کو اللہ پاک ہر نیک کام میں بڑ ھ چڑھ حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔