موسمیاتی تبدیلیاں اور ہماری ذمہ داریاں

پاکستان سمیت دنیابھرمیں 16اکتوبر 2016کو عالمی خوراک کا دن منایا گیا جس کا موضوع ’’موسم بدل رہے ہیں خوراک اور زاعت کو بھی بدلنا ہوگا ‘‘موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت گذشتہ چند برسوں سے مسلسل بڑھ رہی ہے گرین ہاؤس گیسز جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین گیسوں کی زیادتی نے پورے ماحول میں بگاڑ پیدا کردیا ہے اور اسط درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے زراعت اورخوراک کی پیداوار میں کمی کی قلعت کا سبب بنتا جارہا ہے زرعیاتی موسمیاتی کیلنڈر میں فرق آگیا ہے زراعت کی پیداوار میں مسلسل کمی ہوتی جارہی ہے اور سخت گرمی کی وجہ سے مٹی سے پانی بخارات بن کر اڑ جاتے ہیں اور مٹی کے زیادہ عرصہ تک خشک ہونے کی وجہ سے خشک سالی کے خدشے کا خطرہ بھی بڑھتا جارہاہے سابق وزیر زراعت ڈاکٹر امیر محمد کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کی اقتصادیات کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں موسمیاتی تبدیلیوں سے زرعی سیکٹر اور وائلڈ لائف کو سب سے بٖڑا چیلنج درپیش ہے ضرورت اس امر کی ہے موسمیاتی اثرات سے بچنے کیلئے خاطر قابل عمل پالیسی سازی کی ضرورت ہے مختلف خطوں کی سطح پر مشاورت اور باہمی تعاون کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے اور حکومتی موسمیاتی تبدیلیوں پر پر مبنی اداروں کی تشکیل کو بھی یقینی بنا کر مناسب حکمت عملی پالیسی اور قانون سازی کر کے اس کے عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے سب سے پہلے ہمیں مقامی سطح سے آغاز کرنا ہوگا درختوں کے کٹاؤ کی رفتار کو کم سے کم کر کے گھر محلہ گلی اور پھر شہر کی سطح پر زیادہ سے زیادہ پھل دار سایہ دار درخت لگانا ہونگے کوڑاکرکٹ اورگلے سڑے پتوں کو اکھاڑ کرنے اور جلانے کی بجائے درست انداز میں ضائع کرنا ہوگا اسی طرح پودوں اور کھیتوں کو زیادہ پانی مت دیں استعمال شدہ آئل کو گٹر میں بہانے سے گریز کریں کیونکہ یہ زیرزمین پانی کو آلودہ کر دیتا ہے اسی طرح مقامی سطح سے ہمیں صوبائی اور قومی سطح پر بھی اقدامات اٹھانا ہونگے اس کیلئے آگاہی بہت ضروری ہے کیونکہ بہت سے لوگ موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل کو سمجھتے ہی نہیں ہیں ہمیں زیادہ سے زیادہ دوستوں رشتہ داروں اور ساتھیوں کو بتانا ہوگا اور آواز اٹھانا ہوگی صوبہ پنجاب کی سطح پر آکسفیم اور انڈس کنسورشیم کے تعاون سے گھرگھر اگاؤ مہم کا آغاز ہو چکا ہے اس مہم کا مقصد زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر آگاہی دینا ہوگی اور صوبائی سطح پر سرکاری ونیم سرکاریاداروں سے مل کر مناسب پالیسیوں کی تشکیل ہے ہمیں اس مہم کا حصہ بننا چاہیے۔