چا رٹر آف پبلک ڈیما نڈ


در ختو ں کی کٹا ئی پر 5 سا ل تک پا بند ی کی تجویز۔۔۔
سبی اور جیکب آبا د کے سا تھ سا تھ ضلع را جن پوربھی گر م تر ین علا قو ں میں شا مل ہے مو سمیا تی تبد یلیو ں کے حوا لے سے اس علاقے کی حد ت میں بھی اضا فہ ہوا ہے یہا ں مو سم گر ما اپنے انتہا ئی عر و ج پر ہو تا ہے جس کی سب سے بڑ ی و جہ ضلع بھر میں بے تحا شا جنگلا ت کی کٹا ئی ہے کیو نکہ جنگلا ت مو سمی تبد یلیو ں کو کنٹر ول میں رکھتے ہیں لیکن راجن پور کے بڑ ے بڑ ے مصر و ف جنگلات کا صفا یا ہو چکا ہے ٹمبر ما فیا کو کھلی چھٹی ملی ہو ئی ہے کو ئی پو چھنے والانہیں اس حوالے سے ہما رے دو ست محمد عا ر ف کلیم بھٹی نے یہ تجو یزبڑ ی شد ہ مد کے سا تھ د ی ہے کہ ضلع بھر میں در ختو ں کی کٹا ئی پر مکمل پا نچ سا ل تک پا بند ی لگا دی جا ئے اور درخت کانٹے والے کے خلا ف سخت تا د یبی کا روا ئی کی جا ئے ٹمپر یچر میں مسلسل اضا فے کو کنٹر ول کر نے کے لئے راجن پور کا ہر شہر ی سال میں دو مر تبہ 5 ،5؍نئے پو دے لگا ئے محکمہ جنگلا ت خصو صی طور پر شجر کا ری کی مہم بھی چلا ئے ہما ری بھی ایک تجو یز یہ ہے کہ رکھ ڈا ئمہ کے وسیع و عر یض جنگل کو نیشنل پا ر ک کا درجہ دیا جا ئے راجن پور کے ایک اور شہر ی شیر علی سو نتر ہ نے بھی اس طر ف تو جہ مبذل کرا نے کی کو شش کی ہے کہ سا بق ڈی سی او غا زی اما ن اللہ کے دور میں لگا ئے کے گئے پو دو ے پا نی نہ ملنے سے سو کھ ر ہے ہیں ان پو دو ں کی روزانہ آبیا ری کا مستقل بند وبست کرایا جا ئے 
پچا د ھ کے علا قہ میں پا نی کی مسلسل قلت !!!
پا نی پو دو ں کی بھی زند گی ہے اورا نسا نو ں اور جا نو رو ں کے لئے بھی پا نی ز ند گی ہے لیکن علاقہ پچا دھ کے لا کھو ں انسا نو ں کی بد قسمتی ہے کہ وہ پینے کے پا نی کا تر ستے ہیں پچا د ھ کے علا قہ میں زیر زمین پا نی کڑوا ہے اور اوسطابا ر شیں بھی نہ ہو نے کے بر ابر ہیں ہز اروں ایکڑ پر انسا نی ،حیوا نی ،نبا تا تی حیا ت کا مکمل دار ومدار نہر ی پا نی پر ہے جبکہ یہا ں کی نہر یں غیر دوا می اور سیزنل ہیں با رشوں اور کبھی کبھا ر نہر ی پا نی سے بنے ہو ئے آبی جو ہڑ وں سے انسا ن اور جانور اکٹھے پا نی پینے پر مجبو ر ہیں اسلا م آباد م ،کرا چی اور دیگر بڑ ے شہر و ں میں پا نی کی فرا ہمی میں رکا ؤ ٹ پر احتجا ج ہوتے ہیں جس کی حکو متیں فورا متحر ک ہو جا تی ہیں لیکن پچا د ھ کے علا قے میں سا را سا ل لا کھو ں مجبو ر انسا ن پا نی کے ایک ایک قطر ے کو تر ستے ہیں انسا نی بنیا دو ں پر یہا ں کے لو گو ں کو پینے کے پانی کی فرا ہمی بھی یہا ں کے عوا م کا بنیا دی حق ہے 
قطب کینال کا نیچر ل سٹیٹس بحا ل کیا جا ئے۔۔
ضلع را جن پورکے مختلف علا قو ں اور شہر وں میں ما حو لیا تی آلو دگی کی صو رتحال انتہا ئی سنگین ہے قصبہ کو ٹلہ نصیر کے چا رو ں طر ف اینٹو ں کے بھٹے اور لکڑ ی کٹا ئی کے بڑ ے بڑ ے کا ر خا نے بڑ ی تعدادمیں مو جو د ہیں جا م پو ر میں تمبا کو سا زی کے کا ر خا نے ” سکوٹے “جا بجا مو جو د ہیں اس طر ح را جن پور شہر کے وسط میں گز ر نے والی ” قطب کینال “کو سیو ریج کا نا لہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے چو ک الہ آبا د کی سا ری آبا دی کا فضلہ اورگند ہ پا نی ،ور کشایو ں کا فا لتو زیر یلا مو اد قطب کینال میں ڈالا جا تا ہے آبا د ی کے تما م سیو ر یج پا ئپ اس نہر میں ڈا لے گئے ہیں جبکہ چو ک الہ آبا دسمیت شہر میں نئی سیو ریج لا ئنیں بچھا ئی گئی ہیں قطب کینا ل کا نیچرل سٹیٹس را جن پور کی خو بصو رتی اور خو شگوار ما حو ل کا سبب بن سکتا ہے اگر محکمہ ما حو لیا ت اور ضلعی انتظا میہ اس مسئلہ پر خصوصی تو جہ دے اور فور ی اقدا ما ت کر ے 
ٹیکنیکل کالج میں با قا عد ہ کلا سز کا اجرا ء کیا جا ئے۔۔
ضلع را جن پور میں غر بت اوربے روز گا ری عا م ہے یہا ں کے ہز ارو ں کم عمر طلبہ اپنی پڑ ھا ئی اھو ری چھو ڑ کر ملک کے بڑ ے صنعتی شہر وں میں محنت مز دوری کر نے پر مجبور ہیں خا د م اعلیٰ پنجاب حکو مت را جن پو ر میں ٹیکنیکل کا لج قا ئم کر نے کی منظور ی دی تھی جس سے یہ اُمید ہو چلی تھی کہ یہا ں کے غر یب طلبہ فنی تعلیمی حا صل کر کے اپنا با عز ت روز گا ر حا صل کر نے کے قا بل بن سکیں گے لیکن تا حا ل گو رنمنٹ ٹیکنیکل کا لج راجن پور میں با قا عد ہ طو رپرسول ،میکنیکل ،الیکٹر یکل وغیر ہ ڈپلو مے کی کلا سز شر وع نہ کی جا سکی ہیں جس کی وجہ سے ضلع بھر کے ہز اروں غر یب طلبہ فنی تعلیم سے محر وم چلے آر ہے ہیں ضلع راجن پور کے عوام خا د م اعلیٰ پنجا ب کے اس “وعدے کی تکمیل “کے منتظر ہیں 
23 ؍ سال قبل راجن پور میں یونیو رسٹی کے قیا م کا وزیر اعظم کا وعد ہ ۔۔
بڑ ے میا ں صا حب نے بھی تقر یبا23؍ سال قبل وزارت عظمیٰ کے پہلے اور میں ایک ایسا ہی و عد ہ کیا تھا جو کہ وہ اب مکمل طو رپر بھو ل چکے ہیں وز یر اعظم میا ں محمد نواز شر یف جس شہریں بھی دور ے پر تشر یف لے جا تے ہیں وہا ں یو نیو رسٹی قا ئم کرنے کا اعلا ن فر ما تے ہیں ۔۔۔۔شا ید بڑ ے میا ں صا حب کو ذرا ذرا یہ با ر ہو کہ 1995 ؁ء میں انہو ں نے اس وقت کے چیف جسٹس مسڑ افضل ظلہ کے ہمرا ہ را جن پور میں انٹر نیشنل اسلا مک یو نیو رسٹی کے سیمی کمپلیکس کا سنگ بنیا د رکھا تھا ضلع را جن پور کے عوا م بڑ ے میا ں صا حب کے اس بھو لے برے وعد ے کی تکمیل کے خوا ب کو ابھی تک اپنی آنکھو ں میں بسا ئے ہو ئے ہیں اگر وز یر اعظم پا کستا ن میا ں محمد نو از شر یف را جن پو ر میں یو نیو ر سٹی کے قیا م کے وعد ے کو پورا کر دیں تو ضلع را جن پور کے عوا م انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے دلو ں میں بسا لیں گے میو نسپل کمیٹی را جن پو ر کے گذ شتہ اجلا س میں زیر صد ارت چیئر مین کنو ر کما ل اختر ،ایک متفقہ قر ار دار کے ذ ر یعے یہی مطالبہ کیا گیا کہ را جن پور میں یو نیو رسٹی قا ئم کی جا ئے اور قر ار دار کے رو ح رواں انجمن تا جر ان کے رہنما محمد ند یم قریشی تھے جبکہ را قم نے بھی گذ شتہ کئی سا لو ں سے را جن پور میں خوا جہ فر ید ؒ یو نیو رسٹی بنا ؤ تحر یک شر وع کر ر کھی ہے جس کو ضلع راجن پور کے عوا م کی مکمل تا ئید و حما یت حا صل ہے