عالمی خوراک کا دن

س ملک میں جھاں ایک طرف چند فیصد اشرافیہ اپنے شاھانہ انداز سے جیتی ھے وھیں دوسری طرف غربت و افلاس کی ماری عوام جنھیں نہ دنیا کی نا آخرت کی خبر جنھیں ھر حال میں صرف نظر انداز ھی کیا جاتا ھے ۔ ان قسمت کے ماروں کی ساری زندگی کا حال لکھوں یا صرف انکی غربت کا تذکرہ کروں ان کے سارے غم و الم لکھوں یا صرف دو وقت کی روٹی پہ بات کروں

ہر سال 16 اکتوبر کو خوراک کا عالمی دن منایا جاتا ہے مگر ضرورت تو بھوک کے عالمی دن منانے کی ہے اگر اپنے ملک کا حال بتاؤں  تو چند عشروں پہلے یہاں  غربت تو تھی مگر بھوک کا نام ونشان نہیں تھا جب غریب آدمی کو بھوک ستاتی ہے تو وہ ظالم چور ڈاکو ، لٹیرا اور دہشت گرد بن جاتا ہے دنیا میں کرائم ریٹ ذیادہ ہو جاتا ہے ۔اور  ہم اپنی خوراک کو ضائع  تو کر دیتے ہیں مگر کسی غریب کا لقمہ نہیں بننے دیتے

اقوام متحدہ کے ادارے FAO کے مطابق ھم ہر روز چالیس فیصد کھانا ضائع کر دیتے ہیں

اور دوسری طرف روزانہ پچانوے ملین انسان کھانا نہیں کھا پاتا یہ تقریبا ایک ارب بنتا ہے روزانہ سات میں سے ایک انسان بھوکا سوتا ہے اور ہم ہر روز مختلف اقسام کے کھانے بے فکری سے کھا جاتے ہیں ۔ ہم ہر سال جتنا کھانا ضائع کرتے ہیں آدہی دنیا مل کر اتنا اناج ایک سال میں اگاتی ہے ۔ ہم بانٹنا نہیں جانتے بس چھیننا جانتے ہیں ہم اگر کسی کو دینے پہ رضامند ہو بھی جائیں تب تک وہ چیز استعمال کے قابل نہیں رہتی

خوراک کی قلت کی اصل وجہ کھانے کا بے دریغ استعمال اور لوگوں کا شہروں کی طرف نقل مکانی کا رجحان ہے

اس ملک میں  ستر فیصد آبادی گاؤں میں رہا کرتی تھی مگر اب شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے دیہات کے سادہ لوح لوگ اپنی خوراک کے معاملے میں خود کفیل تھے  ہر گھر اپنی ضرورت کی سبزیاں اور اناج خود اگاتا تھا مگر وقت کے ساتھ جب انسان انڈسٹریلزم کے اس دور میں آیا تو سادگی کی جگہ دکھاوے نے لے لی ۔ہم نے دیسی کھانوں کو خیر آباد کہ دیا اور پزا برگر اور شوارمے جیسی لوازمات کے اسیر ہو گئے ۔ صحت مند گوشت کی جگہ برائلر نے لے لی ۔ ٹھنڈے مشروبات اور لسی کی جگہ کوک اور پیپسی آگئ دیسی گھی کو بناسپتی گھی میں بدل دیا گیا

وہ زمین جو ہمارے لیے گندم چاول کپاس اور دوسرے اجناس اگاتی تھی اس زمین پر لوگوں نے فیکٹریاں لگا لیں اور زمین کو بنجر بنا دیا گیا

فیکٹریوں کے ویسٹ نے زیر زمین پانی کو آلودہ کر دیا جس سے بیش بہا بیماریوں نے جنم لے لیا

اگر ہم چاہتے ہیں اس دنیا سے بھوک اور افلاس کا خاتمہ ہو جائے ہمیں دیہی ترقی کی طرف آنا ہوگا ۔ گاؤں کے لوگوں کو ، کسانوں کو غلہ اور اناج اگانے کی طرف راغب کرنا ہو گا ۔ خوراک کے بے جا استعمال کو روکنا ہوگا ۔ شادی بیاہ پہ خوراک کے ضیاع کو روکنا ۔ نصاب میں اس مسئلے اور عنوان پہ اسباق شامل کیے جائیں تا کہ لوگوں میں شعور اور آگہی آسکے ۔

موسمیاتی تبدیلی

موسمیاتی تبدیلی دنیا کے بڑے مسئلوں میں سب سے اھم ھے جو حالیہ برسوں میں ابھر کر سامنے آیا ھے اس کا سب سے بڑا اثر گلوبل وارمنگ کی صورت میں دنیا کو جھیلنا پڑا ھے ایک عالمی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک صدی کے دوران دنیا کے درجہ حرارت میے اعشاریہ تین فیصد اضافہ ھواھے   کاربن ڈائ آکسائیڈ کی مقدار میں ذیادتی کسی بڑے خطرے سے کم نھیں عالمی درجہ حرارت کی وجہ سے گلیئشرز پگھل رھے ھیں جس سے پانی کی شدید کمی واقع ھو رھی ھے عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق دنیا کی تیسری عالمی جنگ پانی پر ھوگی اس سے پہلے کہ طبل جنگ بج اٹھے ھمیں اس مسئلے پر قابو پانا ھوگا ۔

اب آتے ھیں اپنے پیارے ملک پاکستان کی طرف

قدرت نے ھمارے ملک کو ھر ان وسائل سے مالامال کر رکھا ھے جن کے لیے دنیا ترستی ھے ھمارے پاس چار بھترین موسم  گرمی سردی بھار اور خزاں موجود ھیں ھیں ھماری سرحد کے ایک طرف سمندر بھتا ھے اور ایک حصہ فلک شگاف پہاڑی سلسلوں  جن میں تربت مارگلہ  راکا پوشی اور قراقرم  شامل ھیں ۔ ھمارے پاس تین بھترین صحرا تھر تھل اور چولستان بھی ھیں ھمارے پاس طویل ترین برف کےمیدان ھیں  مگر ان سب کے باوجود ھر سال اس ملک میں قدرتی آفات آتی ھیں سرکاری ٹی وی کی اک رپورٹ کے مطابق پاکستان ان ۱۰ ممالک کی فھرست میں شامل ھے جو قدرتی آفات کے دھانے پر کھڑے ھیں پاکستان میں سیلاب اور زلزلے عام ھو رھے ھیں اس ملک کا پچھتر فیصد حصہ پانی پر مشتمل ھے جس میں صرف تیں فیصد پانی تازہ اور پینے کے قابل ھے یہی تین فیصد خطرناک حد تک کم ھو رھا ھے ۲۰۱۴ سے تھرپارکر اور چولستان کے لوگ خشک سالی میں مبتلا ھیں گلوبنگ وارمنگ کی وجہ ھر سال شدید گرمی اور سردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ھے سائنسدانوں کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کا عمل ان کی توقع سے کھیں زیادہ تیز ھوگیا ھے آبی وسائل میں کمی اور ڈیمز کا نہ ھونا ھماری نا اہلی کا ثبوت ھے سالہا سال اس ملک میں سیلاب غریب لوگوں کے گھر جانور اور فصلیں بھا کر لے جاتا اور ھم بربادی کا تماشا دیکھتے رہ جاتے ھیں ھمارے سیاستدانوں کو سیاست چمکانے کا موقع ملُ جاتا ھے 

ھمارا المیہ یہ ھے کہ ھمیں ھمیشہ پانی سر سے گزر جانے کے بعد ھوش آتی ھے ۔ ھم تب تک خواب غفلت میں سوئے رھتے ھیں جب تک کوئ بڑا نقصان نہ اٹھا لیں ۔ ھمیں لاشیں اٹھانے کہ بعد سمجھ آتی ھے کہ یہ مسئلہ تو ھمارا تھا ۔ اس ملک میں دیہی آبادی کے اسی فیصد لوگ اور شہری آبادی کے پچاس فیصد لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ھیں اور ھمیں اب جا کر ھوش آرھی ھے 

اس مسئلے کے حل کے لیے گورنمنٹ آف پاکستان نے climate change policy بنائ ھے جسے بھت سی عوام نے پڑھا تک نھیں اور وہ اس پالیسی سے بلکل لاعلم ھیں عوام کو اس مسئلے کی طرف راغب کرنا ھوگا لوگوں میں شعور اور آگاھی پھیلائ جائے قدرتی وسائل کا کم سے کم ضیاع جنگلات کے کٹاؤ میں کمی اور پانی کے بے جا استعمال سے لوگوں کو روکا جائے 

زراعت کا طالب علم ھونے کے ناطے میں اس بات سے متفق اور گورنمنٹ آف پاکستان سے اپیل کرتا ھوں اپنی پالیسی کو نصاب میں شامل کریں اس پر ورکشاپس اور آگاھی مھم چلائی جائیں تاکہ کسان اپنی فصلوں اور باقی انسان  اپنی جانوں کو بچا سکیں