ہماری سوچ میں مثبت تبدیلی اور بنیادی انسانی حقوق کی تعلےم

حقوق حق کی جمع ہے اور حق سے مراد ایک ایسا مفاد ہے جس کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حق اور ضرورت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ہر انسان کو پیدائش سے چند بنیادی حقوق مل جاتے ہیں مثلاً زندگی جینے کا حق ،آزادی رائے کا حق ،معلومات لینے کا حق ،مل جل کر بیٹھنے کا حق ۔انسانی حقوق کی تحریک میں ہر دور کے علمائ، صوفیا اور انقلابی رہنماﺅں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے احتجاج میں آواز بلند کی ہے۔ اس تحریک کے باقاعدہ آغاز کا سراغ روم اور یونان سے ملتا ہے اور اس سلسلے میں ہمورابی کا قانون بہت اہمیت کا حامل ہے اور زندگی کے تمام پہلوﺅں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ تحریک مختلف مراحل میں سے گزرتی ہوئی ایک عالمی منشور پر آکر رکی جس نے اس تحریک کو باقاعدہ اور منظم شکل دی۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں کروڑوں جانوں کے نقصان کے بعد اقوام عالم نے ایک معاہدہ قبول کیا جس کی پہلی شق کے مطابق تمام انسان بلا تفریق رنگ ونسل برابر ہیں۔ اس معاہدے کو دنیا میں انسانی حقوق کے عالمی منشور (UDHR) کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ 10دسمبر1948کو منظور کیا گیا، اس کی 30 شقیں ہیں جو انسانیت کو تمام بنیادی حقوق دینے کی ضامن ہیں۔ آج 192ممالک اس معاہدے کو قبول کرتے ہیں اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ انسانی حقوق کو لوگوں تک پہچانے کا طرےقہ بھی خود کار سسٹم کی طرح ہونا چاہیے۔ ےعنی لگاتار ، مسلسل چلنے والا سسٹم۔ شروع سے لے کر آخر تک تمام لوگوں کو ہر قسم کے حقوق حاصل ہونے چاہیے۔

جےسا کہ رےاست ہم عوام سے اےک خود کار نظام کے تحت ٹےکس لےتی ہے مگر اسکے بدلے مےں ہمےں وہ بنےادی حقوق سے محروم رکھتی ہے ۔ ےہاں مےں تھوڑا ٹےکس کے تفصےل بتاتا چلوں ٹےکس دو طرح کے ہوتے ہےں :

براہ راست محصول /ٹےکس :  جیسا کہ لفظ سے ہی ظاہر ہے کہ اےسامحصول جو عوام خود جا کر حکومت کے اکاﺅنٹ مےں جمع کرائے براہ راست محصول کہلاتاہے۔ مثلاً پراپرٹی کی خریدوفروخت پر یا پھر کوئی لائسنس بنوانے پر یا پھر گاڑی ، ادارہ وغیرہ رجسٹر کروانے پر حکومت عوام سے ٹیکس لیتی ہے ۔

بالواسطہ محصول /ٹےکس : وہ محصول جو کہ ہم لوگ با لواسطہ طرےقے سے ادا کرتے ہےں۔ مثلاً مختلف کمپنیاں اپنے اوپر لگنے والے محصول قیمت میں شامل کر دیتی ہیں سیلز ٹیکس وغیرہ۔جیسے گورنمنٹ ٹیکس لینے کے لیے براہ راست ےا بلا واسطہ طرےقہ استعمال کرتی ہے اسی طرح انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے بھی اےک خود کار طر ےقہ ہونا چاہیے۔ اگر ہم اندازہ لگائیں تو ایک سیاسی حلقے میں ایک دن کا ٹیکس تقریباً 50 لاکھ روپے جمع ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا ٹیکس جمع کرانے والوں کو کیا حکومت ان کے حقوق بہم فراہم کر رہی ہے؟

معاشی ترقی جہاں ریاستی انتظام وانصرام کے لیے سرمایہ کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔ وہیں نجی وبیرونی سرمایہ کاری معاشی تفریق کو بھی جنم دینے کا سبب بنتی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری جو کہ بین الاقوامی ادارے کرتے ہیں، اگر مناسب ضبط میں نہ رکھے جائیں تو ملکی سرمایہ کا بہاﺅ بیرون ممالک ہونے سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا جاتا ہے لیکن آج ہمارا ملک غیر ملکی امداد کے سہارے چل رہا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان نے اپنی آزادی کے 65سالوں کا ایک طویل عرصہ فوجی اکثریت کے تسلط میں گزارا ہے جس کی وجہ سے جمہوری عمل شدیدمتاثر ہوا ہے۔ انسانی حقوق اور معاشی ترقی کا جائزہ کچھ اعداد وشمار سے لگایا جاسکتا ہے۔

2010تک پاکستان میں 12948صحت کے ادارے کام کررہے تھے ان میں مریضوں کے لیے بستر کی تعداد 104137تھی اور ہسپتالوں کی کل تعداد 104137تھی۔ کل ڈاکٹرز 14490اور 73244نرسز تھیں۔ یعنی ہر چار ہزار افراد کے لیے پانچ معالج اور دو نرسز کا تناسب بنتا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے باوجودصحت کے لیے بجٹ میںخام ملکی پیداوار (G.D.P)کا2.4فیصد مختص کیا گیا ۔ کل آبادی کے صرف 48فیصد تک صاف پانی کی دستیابی ہے۔ مہنگائی 11.1فیصد اور بیروزگاری کی شرح 7.5فیصد ہے۔

پاکستان کی برآمدات کازر مبادلہ 25.35ارب جبکہ درآمدات کا 35.82ارب روپے ہے۔ نتیجتاً پاکستان میں معاشی اور معاشرتی عدم استحکام کی صورت حال شدید ابتر ہوتی جارہی ہے اور اس نے پاکستان کو ناکام ریاستوں میں 12نمبر پر لاکھڑاکیا ہے جوکہ 2010میں 10پوزیشن تک جاچکا تھا۔

ہمارے گردونواح میں با اثر افراد نے سیاست کو ذاتی کاروبار یا جاگیر بنا لیا ہے۔ ہم لوگ بھی ووٹ کاسٹ کرتے وقت اپنی محلوں کے چودھریوں کو سامنے رکھتے ہیں ۔ کسی بھی پارٹی کا منشور یا قیادت کے نظریات کی قدر نہیں کرتے ۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ ووٹ صرف اور صرف پارٹی منشور یا پھر پارٹی قیادت کے فیوچر پلان کو سامنے رکھ کر کاسٹ کرتے ہیں۔ وہاں سیاست ایک ادارہ ہے جو بھی اہل ہو گا اسے موقع ملے گا۔ جبکہ ہمارے ہاں سیاست موروثیت کا شکار ہے ، ایک اےم۔اےن۔اے کا بیٹا ہے اگلی دفع اےم۔اےن۔اے کا امیدوار بنے گا۔ پارٹی کے دوسرے کسی رکن کو اجازت نہیں ملتی۔ یہاں ہمارے سیاسی حقوق کو قتل کیا جا رہا ہے۔ چونکہ ہم ووٹ غلط کاسٹ کرتے ہیں اس لیے سزا بھی ہمیں کو بھگتنا پڑتی ہے۔ہمارہ معاشرہ 5 معاشرتی ستونوں پر کھڑا ہے۔

1۔ خاندان2۔ تعلیم3۔ مذہب4۔ اکنامکس 5۔ سیاست

ہماری سوچ کی بنیاد ہمارے خاندان سے شروع ہوتی ہے جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو ہم ہمارے آس پاس ہونے والے عوامل کو آہستہ آہستہ اپنا لیتے ہیں۔کیونکہ میں آج جہاںہوں ، جو بھی ہوں، اور جیسے ہوں یہ سب ایک حادثاتی بنیاد پر مبنی ہے۔ میرا مذہب میں نے خود نہیں چُنا کیونکہ میرے دادا کا یہ مذہب تھا اور پھر یہ میرے باپ کو منتقل ہوا اور پھر اِسی طرح مجھے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ طرز فکر میں تبدیلی کا پہلا سبب خاندان ہے۔ دُنیا میں ہزاروں زُبانیں بولی جاتی ہیں جو کہ حالت و واقعات اور ضروریات کی پیش نظر سامنے آئیں۔ لیکن آج ہر زبان کی اپنی الگ پہچان ہے ۔ اِس طرح مذاہب بھی مختلف ہیں اور ہر کسی کو ایک دوسرے کے عقیدے اور ایمان کی عزت کرنی چاہیئے۔ قرآن پاک میں کہیں بھی رب المسلمین نہیں لکھا گیا بلکہ رب العلمین لکھا گیا ہے۔ اور یہی ہمارا جمہوری رویہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کریں۔ جب ہم جمہوریت جمہوریت کی آواز لگاتے ہیں تو پہلے یہ سوچ لینا چاہئیے کہ کیا ہمارے رویے اور ہمارے گھروں میں جمہوریت ہے؟ اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہمارے اندر جمہوری رویے نہیں ہیں اور کوئی ایسا ادارہ بھی نہیں جو جمہوری رویوں کے فروغ کے لیے کام کرتا ہو۔ اِسی طرح ہماری سوچ میں تبدیلی کے لیے ہماری کمیونٹی بھی کارفرما ہوتی ہے اور کمیونٹی میں ہماری درسگاہیں اور سکول بھی شامل ہیں۔ اور ہمارے سکولوں میں جو نصاب ہمیں پڑھایا جاتا ہے اُس سے ہماری سوچ کی مزید تر قی ہوتی ہے لیکن وہ مثبت ہے یا منفی یہ نصاب پر منحصر ہے۔ ہمارے ملک پاکستان کے آئین میں بھی انسانی حقوق شامل ہیں لیکن جب تک ہمیں یہ پتا ہی نہیں کہ ہمارے حقوق کیا ہیں اور ہم کس سے وہ حقوق مانگ سکتے ہیں یہ کون ہمارے حقوق دینے کا مجاز ہے اُس وقت تک حقوق کا حصول نا ممکن ہے۔ اور ہماری درسگاہوں اور سکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں انسانی حقوق کی تعلیمات کا کہیں بھی ذکر نہیں جبکہ یورپین ممالک میں پانچویں جماعت تک طالب علموں کو اُن کے بنیادی حقوق کا پتا چل جاتا ہے۔

چنانچہ ہماری سوچ میں مثبت تبدیلی کے لیے ہمیں بنیادی انسانی حقوق کا پتا ہونا بہت لازم ہے اور اِس کے لیے انسانی حقوق کی تعلیم کا عام ہونا بہت ضروری ہے۔ اور لوگوں کو یہ پتا ہونا چاہئیے کہ حق کیا ہوتا ہے اور اُسے کیسے اور کہا سے حاصل کرنا ہے۔ اِس کے لیے ریاست کا کردار مثبت ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ ریاست ایک ماں ہوتی ہے اور جس طرح ہماری سوچ کی بنیاد ہمارا خاندان ہے اُسی طرح سوچ میں مثبت تبدیلی کے لیے ریاست کردار بھی اہم ہے