بھوک، خوراک

یہ ہے ہمارا کامیاب پاکستان جہاں بھوک اور افلاس کا بازار گرم ہے غریب طبقہ اپنی پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے کیا کیا نہیں کرتے اور ہم کس حد تک گہرائیوں میں جا کر ریسرچ ورک کرتے ہیں۔ یہ ریسرچ یہ مردم شماری کے گراف بنانا سب کچھ میری نظر میں فضول ہے کیوں کہ ہمارے ملک میں غریبوں کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔۔ہر کوئی اپنی دھت میں مست ہے اور اپنی ہی ذات کے بارے میں سوچ کر پریشان ہیں۔
ویسے دیکھا جائے تو یہ ہمارے معاشرے کی ایک مسک تصویر ہے جو ہر کسی کی ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے۔

بھوک، خوراک کی طلب اور خوراک کا بے تحاشا ضیاع

اللہ تعالی کا لطف و کرم ہر انسان پر قائم ودائم ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دے کر اللہ تعالی نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان وہ واحد دنیا میں خلقت ہے جس کا کوئی ثانی و نعم البدل نہیں۔ مگر انسان یہ سوچنے سے قاصر ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں کتنے ایسے لوگ ہیں جن کو دو وقت کی روٹی تک نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں کوئی مسیحا ایسا نہیں جو انکی شنوائی کر سکے۔ اس نفسا نفسی کے عالم میں ہر کسی کو اپنی ہی ذات کی پڑی ہوئی ہے جو صرف اور صرف اپنا پیٹ پالنے کے سوچوں میں گم ہے۔
آج ہم پاکستان کے لوگوں کی بات کرے تو ہر طرف بھوک اور افلاس کا ایک سماں ہے نہ کوئی غریبوں کی مدد کرنے والا ہے اگر مدد کرنے والا ہے بھی تو مستقل مزاجی سے اپنی خدمات سر انجام نہیں دے رہا۔ پاکستان کی ہر گلی کے نکڑ میں ہوٹل بنائے گئے ہیں اور طرح طرح کے طعام کا بندوبست بھی ہے مگر آفسوس اس امر کا ہے کہ کھانے ہوٹلوں میں سڑتے ہیں مگر مجال ہے کہ کسی غریب کو دیاجائے۔۔
ماہ مبارک رمضان میں ہم فخر سے افطاری کا بہتر سے بہتر انتظام کرتے ہیں اور دکھاوے کے لئے دسترخوان میں موجود طعام کی تصویریں بنا کر سوشل میڈیا میں چڑھاتے ہیں لیکن اس بات سے بے خبر ہیں کہ ہمارا غریب طبقہ ایک وقت کی روٹی کھانے کے لئے ترستا ہے۔ اللہ تعالی کا خوف ہر شخص کے دلوں سے ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے اور اس پر غور و فکر کرنے کی کوشش کوئی نہیں کرتا ہے کہ آیاں ہمارے معاشرے میں جو غریب طبقہ ہے اسکو ایک وقت کی روٹی میسر ہے کہ نہیں۔۔ہمارے حکمران تو اب غریب عوام کو بھول ہی گئے ہیں وہ لمحہ بھر کے لئے نہیں سوچتے ہیں کہ ہماری غریب عوام کسی حال میں جی رہی ہے۔۔
ہمیں ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ جان لینا چاہیئے کہ ہمارے غریب طبقے کی طرف توجہ دلانے میں مکمل طور پر رہنمائی ہو اور تمام غریب غربا کی ہر ممکن مدد ہو سکے۔۔
اگر ہم غیرت کا مظاہرہ کر کے ہوٹلوں کے تمام تلف ہونے والے کھانوں کو سڑنے سے پہلے ہی بچا کر کسی غریب کو دے دیں تو مقصد انسانیت بھی پورا ہوگا اور ایک غریب کا پیٹ بھی بھر جائے گا۔
اسی لئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔۔!
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھا کرو بیاں