PAKISTAN, THE LESS EMITTER BUT MORE VULNERABLE

I got astounded to read in a local newspaper a few days back, that according to Global Climate Risk Index 2017, Pakistan ranks 7th position among the most adversely affected countries due to climate change. Well, this is not a position of a child in exam result that the higher it is, the gladder the parents are…

Despite having such high vulnerabilities of climate changes in future, Pakistan is still among the low emitter of Green House Gases (GHG) emissions. Now, this is alarming… but have we realized its high vulnerability and impacts on our Agriculture, Livestock, and livelihood fully???

We hail efforts of the government of Pakistan which is trying to cope this up at domestic level, and recently passed the national policy to combat Climate Change and “Pakistan Climate Change Act 2017”. Now; at least the legislation has, in turn, created Climate Change Fund, Climate Change Council, and Climate Change Authority to implement the Climate Change Act. Likewise; two provinces, Sindh and Punjab are finalizing their climate change policies with due consultation with stakeholders.

Well, there is no doubt that development practitioners throughout the country have been demanding the laws, policies and institutional set-up on climate change, however; if it cannot be translated into some practical moves, and then it will all go in vain.

A few months ago, I got a chance to participate in the first International Conference on Emerging Trends in Earth and Environmental Sciences organized by College of Earth and Environmental Sciences, University of the Punjab, Lahore. About a hundred of students, environmentalists, and academic professionals were gathered to present their researches. It kept me thinking after so many days that we always hear development professionals and government departments’ representatives said that we need researchers/ researches… But why don’t they see this side of the population, with a handful of researchers and with their help, we can do a lot to mitigate climate change impacts.

But sadly, it does not finish here, we must transfer the knowledge, whether it is coming from the researchers, laws or policies, to the 200 million Pakistan’s population which has more than 60% from rural and to which we depend on our maximum economy, and that’s Agriculture.

Now an activist we cannot even make slogan “End Climate Change” like we chant for Violence against Women or Poverty because climate change cannot end magically, it can only be mitigated and adapted with collectiveness and with a commitment from people and government. One can easily understand any government’s priorities by looking into its financial planning and budgetary allocations, however, unfortunately, we have still not set it as our priority. Climate Public Expenditure Review by Grow campaign reveals a lot about government’s less-attention areas, which primarily include agriculture, environment and other related sectors. So do we want to see our children getting suffered out of our deeds? Have we not learned from the past or we need a lot more to come? I think now we want to create severe circumstances for our children where they cannot have food, cannot breathe or have safe drinking water.

 

چا رٹر آف پبلک ڈیما نڈ


در ختو ں کی کٹا ئی پر 5 سا ل تک پا بند ی کی تجویز۔۔۔
سبی اور جیکب آبا د کے سا تھ سا تھ ضلع را جن پوربھی گر م تر ین علا قو ں میں شا مل ہے مو سمیا تی تبد یلیو ں کے حوا لے سے اس علاقے کی حد ت میں بھی اضا فہ ہوا ہے یہا ں مو سم گر ما اپنے انتہا ئی عر و ج پر ہو تا ہے جس کی سب سے بڑ ی و جہ ضلع بھر میں بے تحا شا جنگلا ت کی کٹا ئی ہے کیو نکہ جنگلا ت مو سمی تبد یلیو ں کو کنٹر ول میں رکھتے ہیں لیکن راجن پور کے بڑ ے بڑ ے مصر و ف جنگلات کا صفا یا ہو چکا ہے ٹمبر ما فیا کو کھلی چھٹی ملی ہو ئی ہے کو ئی پو چھنے والانہیں اس حوالے سے ہما رے دو ست محمد عا ر ف کلیم بھٹی نے یہ تجو یزبڑ ی شد ہ مد کے سا تھ د ی ہے کہ ضلع بھر میں در ختو ں کی کٹا ئی پر مکمل پا نچ سا ل تک پا بند ی لگا دی جا ئے اور درخت کانٹے والے کے خلا ف سخت تا د یبی کا روا ئی کی جا ئے ٹمپر یچر میں مسلسل اضا فے کو کنٹر ول کر نے کے لئے راجن پور کا ہر شہر ی سال میں دو مر تبہ 5 ،5؍نئے پو دے لگا ئے محکمہ جنگلا ت خصو صی طور پر شجر کا ری کی مہم بھی چلا ئے ہما ری بھی ایک تجو یز یہ ہے کہ رکھ ڈا ئمہ کے وسیع و عر یض جنگل کو نیشنل پا ر ک کا درجہ دیا جا ئے راجن پور کے ایک اور شہر ی شیر علی سو نتر ہ نے بھی اس طر ف تو جہ مبذل کرا نے کی کو شش کی ہے کہ سا بق ڈی سی او غا زی اما ن اللہ کے دور میں لگا ئے کے گئے پو دو ے پا نی نہ ملنے سے سو کھ ر ہے ہیں ان پو دو ں کی روزانہ آبیا ری کا مستقل بند وبست کرایا جا ئے 
پچا د ھ کے علا قہ میں پا نی کی مسلسل قلت !!!
پا نی پو دو ں کی بھی زند گی ہے اورا نسا نو ں اور جا نو رو ں کے لئے بھی پا نی ز ند گی ہے لیکن علاقہ پچا دھ کے لا کھو ں انسا نو ں کی بد قسمتی ہے کہ وہ پینے کے پا نی کا تر ستے ہیں پچا د ھ کے علا قہ میں زیر زمین پا نی کڑوا ہے اور اوسطابا ر شیں بھی نہ ہو نے کے بر ابر ہیں ہز اروں ایکڑ پر انسا نی ،حیوا نی ،نبا تا تی حیا ت کا مکمل دار ومدار نہر ی پا نی پر ہے جبکہ یہا ں کی نہر یں غیر دوا می اور سیزنل ہیں با رشوں اور کبھی کبھا ر نہر ی پا نی سے بنے ہو ئے آبی جو ہڑ وں سے انسا ن اور جانور اکٹھے پا نی پینے پر مجبو ر ہیں اسلا م آباد م ،کرا چی اور دیگر بڑ ے شہر و ں میں پا نی کی فرا ہمی میں رکا ؤ ٹ پر احتجا ج ہوتے ہیں جس کی حکو متیں فورا متحر ک ہو جا تی ہیں لیکن پچا د ھ کے علا قے میں سا را سا ل لا کھو ں مجبو ر انسا ن پا نی کے ایک ایک قطر ے کو تر ستے ہیں انسا نی بنیا دو ں پر یہا ں کے لو گو ں کو پینے کے پانی کی فرا ہمی بھی یہا ں کے عوا م کا بنیا دی حق ہے 
قطب کینال کا نیچر ل سٹیٹس بحا ل کیا جا ئے۔۔
ضلع را جن پورکے مختلف علا قو ں اور شہر وں میں ما حو لیا تی آلو دگی کی صو رتحال انتہا ئی سنگین ہے قصبہ کو ٹلہ نصیر کے چا رو ں طر ف اینٹو ں کے بھٹے اور لکڑ ی کٹا ئی کے بڑ ے بڑ ے کا ر خا نے بڑ ی تعدادمیں مو جو د ہیں جا م پو ر میں تمبا کو سا زی کے کا ر خا نے ” سکوٹے “جا بجا مو جو د ہیں اس طر ح را جن پور شہر کے وسط میں گز ر نے والی ” قطب کینال “کو سیو ریج کا نا لہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے چو ک الہ آبا د کی سا ری آبا دی کا فضلہ اورگند ہ پا نی ،ور کشایو ں کا فا لتو زیر یلا مو اد قطب کینال میں ڈالا جا تا ہے آبا د ی کے تما م سیو ر یج پا ئپ اس نہر میں ڈا لے گئے ہیں جبکہ چو ک الہ آبا دسمیت شہر میں نئی سیو ریج لا ئنیں بچھا ئی گئی ہیں قطب کینا ل کا نیچرل سٹیٹس را جن پور کی خو بصو رتی اور خو شگوار ما حو ل کا سبب بن سکتا ہے اگر محکمہ ما حو لیا ت اور ضلعی انتظا میہ اس مسئلہ پر خصوصی تو جہ دے اور فور ی اقدا ما ت کر ے 
ٹیکنیکل کالج میں با قا عد ہ کلا سز کا اجرا ء کیا جا ئے۔۔
ضلع را جن پور میں غر بت اوربے روز گا ری عا م ہے یہا ں کے ہز ارو ں کم عمر طلبہ اپنی پڑ ھا ئی اھو ری چھو ڑ کر ملک کے بڑ ے صنعتی شہر وں میں محنت مز دوری کر نے پر مجبور ہیں خا د م اعلیٰ پنجاب حکو مت را جن پو ر میں ٹیکنیکل کا لج قا ئم کر نے کی منظور ی دی تھی جس سے یہ اُمید ہو چلی تھی کہ یہا ں کے غر یب طلبہ فنی تعلیمی حا صل کر کے اپنا با عز ت روز گا ر حا صل کر نے کے قا بل بن سکیں گے لیکن تا حا ل گو رنمنٹ ٹیکنیکل کا لج راجن پور میں با قا عد ہ طو رپرسول ،میکنیکل ،الیکٹر یکل وغیر ہ ڈپلو مے کی کلا سز شر وع نہ کی جا سکی ہیں جس کی وجہ سے ضلع بھر کے ہز اروں غر یب طلبہ فنی تعلیم سے محر وم چلے آر ہے ہیں ضلع راجن پور کے عوام خا د م اعلیٰ پنجا ب کے اس “وعدے کی تکمیل “کے منتظر ہیں 
23 ؍ سال قبل راجن پور میں یونیو رسٹی کے قیا م کا وزیر اعظم کا وعد ہ ۔۔
بڑ ے میا ں صا حب نے بھی تقر یبا23؍ سال قبل وزارت عظمیٰ کے پہلے اور میں ایک ایسا ہی و عد ہ کیا تھا جو کہ وہ اب مکمل طو رپر بھو ل چکے ہیں وز یر اعظم میا ں محمد نواز شر یف جس شہریں بھی دور ے پر تشر یف لے جا تے ہیں وہا ں یو نیو رسٹی قا ئم کرنے کا اعلا ن فر ما تے ہیں ۔۔۔۔شا ید بڑ ے میا ں صا حب کو ذرا ذرا یہ با ر ہو کہ 1995 ؁ء میں انہو ں نے اس وقت کے چیف جسٹس مسڑ افضل ظلہ کے ہمرا ہ را جن پور میں انٹر نیشنل اسلا مک یو نیو رسٹی کے سیمی کمپلیکس کا سنگ بنیا د رکھا تھا ضلع را جن پور کے عوا م بڑ ے میا ں صا حب کے اس بھو لے برے وعد ے کی تکمیل کے خوا ب کو ابھی تک اپنی آنکھو ں میں بسا ئے ہو ئے ہیں اگر وز یر اعظم پا کستا ن میا ں محمد نو از شر یف را جن پو ر میں یو نیو ر سٹی کے قیا م کے وعد ے کو پورا کر دیں تو ضلع را جن پور کے عوا م انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے دلو ں میں بسا لیں گے میو نسپل کمیٹی را جن پو ر کے گذ شتہ اجلا س میں زیر صد ارت چیئر مین کنو ر کما ل اختر ،ایک متفقہ قر ار دار کے ذ ر یعے یہی مطالبہ کیا گیا کہ را جن پور میں یو نیو رسٹی قا ئم کی جا ئے اور قر ار دار کے رو ح رواں انجمن تا جر ان کے رہنما محمد ند یم قریشی تھے جبکہ را قم نے بھی گذ شتہ کئی سا لو ں سے را جن پور میں خوا جہ فر ید ؒ یو نیو رسٹی بنا ؤ تحر یک شر وع کر ر کھی ہے جس کو ضلع راجن پور کے عوا م کی مکمل تا ئید و حما یت حا صل ہے

گلوبل وارمنگ اور تحفظ خوراک

تحریر: محمد یونس زاہد (اسسٹنٹ ڈارائیکٹر محکمہ تحفظ ماحولیات راجن پور)
ماحول اور زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔زندگی کے لئے رہائش ،خوراک اور توانائی ضروری ہیں ان کے حصول کے لئے انسان ذمینی زرائع کا بے دریغ استمال کر رہا ہے ۔اس غیر پائیدار تر قی کے سلسلہ میں انسانی کارروائیاں نظام ارضی پر بہت برے اثرات کا باعث ہیں۔جس کے نتیجہ میں ہونے والے موسمیاتی و ماحولیات تغیرات سے آب وہوا ،نباتات اور حیوانات نہ صرف متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ان کے خوراک کے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
قدرتی طور پر سورج کی حرارت کا واپس ٖفضا میں جانا ضروری ہے لیکن صنعتی انقلاب اور توانائی کے حصول کے لئے ان گیسوں کی بڑی مقدار فضا میں جمع ہو رہی ہے جو کہ سورج کی حرارت کو واپس جانے سے روک کر ہمارے ماحول کو مسلسل گرم کر رہی ہے ان گیسوں کا یہ عمل گرین ہوس اثرات کہلاتا ہے اور اس نتیجہ میں بڑھنے والے عالمی درجہ حرارت کو گلوبل وارمنگ کہتے ہیں ۔
گرین ہاوٗس گیسیں زیادہ تر ایندھن کے استمال سے پیدہ ہوتی ہیں ان کا گلوبل وارمنگ میں حصہ درج ذیل ہے۔

  1. ۔کاربن ڈائی آکسائیڈ ۵۵ فیصد
  2. ۔کلوروفلواو ۷۱ فیصد
  3. ۔میتھین ۵۱ فیصد
  4. ۔نائیٹرس آکسائیڈ ۵ فیصد

۔دیگر گیسیں ۸ فیصد
نارمل حالات میں سورج سے آنے والی 70 فیصد حرارت عرضیاتی عوامل میں استما ل ہوتی ہے اور 30 فیصد واپس خلا میں چلی جاتی ہے لیکن گرین ہاوٗس گیسیں اس 30 فیصد حرارت کو واپس خلا میں جانے سے روکتی ہیں ان گیسوں کی فضا میں مناسب مقدار ضروری ہے اور انھیں گیسوں کی وجہ سے زمیں کا اوسط درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہے اور انکی غیر موجودگی میں اوسط درجہ حرارت منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈہوتا ہے ۔
اگر ان گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج کو نا روکا گیا تو 2040 تک زمیں کا اوسط درجہ حرارت 3
ڈگری سینٹی گریڈاور صدی کے آخر تک 6 سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گا ۔
ہماری غذائی فصلوں اور دیگر نباتات کا مکمل انحصار مخصوص موسمی اور ماحولیاتی عوامل پر ہے۔لیکن یہ مخصوص عوامل گلوبل وارمنگ کی وجہ سے مسلسل نا موافق ہو رہے ہیں۔جس کی وجہ سے پودوں کے اگنے کا عمل بڑہوتری اورپھل و پھول آنے کا انحصار مخصوص ماحولیاتی شرائط پر ہے۔
گلوبل وارمنگ سے نہ صرف غذائی قلت ہو رہی ہے بلکہ ماحولیاتی تغیرات سے بارشوں کا تناسب اور بادلوں کو لانے والی ہواؤں کے رخ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔جس کی وجہ سے خط استوا اور اس کے قرب جوار کے علاقہ جات میں قحط سالی کے خطرات ہیں۔
انسان کی بہتر آسائیشوں کے لئے دوڑ، صنعتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور توانائی کے حصول کے لئے ایندھن کا بے تحاشہ استعمال آلودگی کی صورت میں ہمارے لیے وبال جان بن چکا ہے۔
گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا میں گرمیوں کا دورانیہ بڑھ رہا ہے سردی کا موسم صرف ایک ماہ اور بہار کا موسم تقریبا ختم ہو چکا ہے۔گلوبل وارمنگ خوردبینی حیات کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے۔ زمین کو زرخیز کرنے والے بیکٹیریا (Cyanobacteria , Nitrogen Fixing)متاثر ہو رہے ہیں۔خط استوا کے اطراف میں ڈینگی وبا پھیل رہی ہے۔اور اب تک 122ممالک میں پھیل چکی ہے۔
ہر سال فضا میں 850 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اضافہ ہو رہا ہے۔اور گلوبل وارمنگ میں اس کا55 فیصد حصہ ہے۔اس گیس کو جذب کرنے والاقدرتی نظام (جنگلات، نباتات)تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
پاکستان سے G.H.G(گرین ہاؤس گیسسز)کا اخراج عالمی اوسط اخراج سے کم ہے۔لیکن گلوبل وارمنگ سے متاثر ہونے والے پہلے 10ممالک میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے۔
گرین ہاوٗس گیسز کے اخراج اور اثرات کو کم کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے تحت 196ممالک کے درمیان عالمی معاہدہ 141Kyoto Protocol Agreement ہے جس کے تحت 30 نومبر تا 12 دسمبر 2015 کو 196 ممبر ممالک کی کانفرنس میں زمینی درجہ حرارت کو 2050 تک دو ڈگری سینٹی گریڈ سے کم بڑھنے کے لئے ممبر ممالک کو اقدامات کا پابند کیا گیا ہے ۔
گرین ہاوٗس گیسز کے اثرات سے بچنے کے لئے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں ۔
۔ان گیسوں کو خارج کرنے والے ایندھن کا کم سے کم استمال یامتبادل ایندھن کا استمعال یا متبادل ٹیکنالوجی ۔
۔بدلتے ماحول کے مطابق غذائی فصلوں کا انتخاب۔
۔گرین ہاوٗس گیسوں کو جذب کرنے والے نظام کی بہتری کے اقدامات یعنی جنگلات اور نباتات لگائیں۔
اگر نسل انسان نے ان گیسوں کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات نا کئے تو درج ذیل مسائل اس کی قسمت کا حصہ بن جائیں گے ۔

  1. ۔ قحط
  2. ۔خوراک کے مسائل
  3. ۔سیلاب
  4. ۔طوفانی بارشیں
  5. ۔زمینی کٹاؤ
  6. ۔مقامی فصلوں کی تبدیلی
  7. ۔غذائی زنجیر کا متاثر ہونا
  8. ۸۔جراثیمی بیماریاں
  9. ۔گلیشیر کا پگھلنا
  10. ۔اوزون کا نقصان
  11. ۔جنگلات میں کمی
  12. ۔شدید گرمی
  13. ۔ہوائی طوفان

10 Things to Conserve Water

 The water crisis is no longer some distant specter of climate change that people can deny. Record high temperatures and low rainfalls have created the perfect storm for the state as farmer’s fields dry up and residential wells have dried up.

Faced with such devastating changes to our environment, it’s natural to wonder what you can do to save water and do your part in helping alleviate the water crisis.

Here are ten things you can do or change to conserve water:

  1. Turn off the tap: Did you know that over half of the water use in the average household takes place in the bathroom? When you’re shaving or brushing your teeth, turn the tap off when you aren’t using the water. This can add up to some big savings.
  2. Shower Smart: According to the EPA, showering accounts for 17% of indoor water use. We can all appreciate a long, hot shower, but it’s important to use water wisely as you do. A low-flow showerhead can save both water and the energy needed to heat the extra water. Just replacing the showerhead with a more eco-friendly option can amount to big savings!
  3. Dishwashers and Laundry: Dishwashers and clothes washers have definitely made life easier for us, but make sure you have a water-efficient model to ensure you’re using the least amount of water needed to complete the task. Also, make sure you only run this appliance when the machine is fully loaded. Washing just a few things isn’t very efficient, after all!
  4. The Great Outdoors: Landscaping can be tricky when there’s not a lot of water to go around. Choose native plants that are best adapted to your environment and its natural rainfall levels. If you do need to water your lawn, it’s best to water between 6 and 10 AM. More cities are imposing watering restrictions on when and how often people can water their lawns, so be sure to check if this is the case in your area.
  5. Fix a Leak: Each year in mid-March is Fix a Leak Week. A slowly dripping faucet may seem harmless enough, but it’s estimated that the average leak can waste about 10,000 gallons of water each year it goes unfixed. Check your plumbing fixtures and irrigation systems to make sure they are sound.Environmental Protection Agency / via epa.gov
  6. Buy Less: Everything we produce takes some water to create, so make your purchases with mindfulness. When the option is available, choose recyclable options which allow the materials to be reused and therefore save water when the materials don’t have to be entirely replaced.
  7. Eat Less Animal Products: The production of meat, dairy, and eggs is especially demanding on our water supply. A typical hamburger alone takes about 630 gallons of water to produce!
  8. Compost: Food waste accounts for a large portion of the rubbish that makes it to landfills. Rather than throwing scraps and leftovers down the garbage disposal and using lots of water to flush the food away, you can make a more eco-friendly choice by choosing to compost organic material.These positive changes can help conserve water in your home and daily routine which in turn can save you some money and really help your community.