Rebel Road Expansion lead to Deforestation

download (2)

We live in an era of unprecedented road and highway expansion. It is an era in which many of the world’s last tropical wildernesses, from the Amazon to Borneo have been penetrated by roads. This surge in road building is being driven not only by national plans for infrastructure expansion, but by industrial timber, oil, gas, and mineral projects in the tropics.

forest-map-of-pakistan

Pakistan is a forest deficient country. It has suffered the loss of forest biodiversity (conifers, riparian, thorn, mangroves) owing to poor management practices of over hundred years, which administer forest systems by dividing conifers into periodic blocks. Policy makers gave preference to certain species on the basis of commercial interests. They ignore taxonomy and follow no scientific procedures. All these practices have led to fragmentary ecosystems and brought some species to the verge of extinction.

Despite their environmental costs, the economic incentives to drive roads into wilderness are strong. Governments view roads as a cost effective means to promote economic development and access natural. 

Local communities in remote areas often demand new roads to improve access to markets and medical services.

There is a need for a permanent think tank outside the government and advocacy groups to support forest policy formulation and implementation process on a perpetual basis as reflected in the Forest Policy 2001. The government should focus on improvement of forest management practices to prevent the loss of biodiversity (for example, reduce the practice of giving preference to certain species for their commercial value and ignoring other species). The integration of ecosystem approach to forest management can prevent further fragmentation of forest habitats.

Think about how much we can avoid if deforestation is controlled.

deforestatio

The government needs to incorporate taxonomy in forest management. Including women in forest management decisions and forestry projects should address the gender dimensions of deforestation. In the final analysis, the effective enforcement of the existing laws and regulations on forests use and management and involvement of the communities in the policy making process from the very outset enables the government to address and arrest sharp forest decline by creating a feeling of a sense of ownership and empowerment among communities.

 

 

Deforestation a cause of Climate Change

Earth is entering into a phase of climate change with the intense and high degree of global warming, increase in temperature, green house effect, and melting of glaciers. In the past few years, there is an increase in temperature all around the world due to these factors. Same is the case with Pakistan, where climate change has affected the area, glaciers are melting etc. The biggest factor is deforestation.

While forest lands have been given to various government departments, some civilians and non-government/commercial organizations also have got the forest land allotted in their name in an exchange.

WWF: forests currently cover only 2.5 per cent of the country’s land, Pakistan has the highest annual deforestation rate in Asia, according to the latest findings of the World Wide Fund for Nature. 

The urgent measures to the relevant authorities to curb the negative trend are the immediate placement of a ban on forest land conversions, commercial harvesting and allotments, the spread of awareness among lawmakers for proper legislation to restrict land conversions; and recovery of forest land from encroachers and its subsequent reforestation. 

The highest rate of deforestation has been found in the Indus delta mangroves, which has depleted at a rate of around 2.3 per cent, while the coniferous forest depleted at 1.99 per cent and ravine forests at 0.23 per cent. 

The WWF report says that over 99,711 acres of forest land in Punjab and 27,874-acre forests in Sindh have been converted to non-forest uses. In this regard, it says, the beneficiaries remain some government departments, politicians and other influential people having close contact with respective governments. 

A province-wise breakdown of forest land converted to other uses shows that Punjab tops the list with the conversion of 99,711 acres, followed by Sindh with 27,874 acres, Balochistan with 13,693 acres, Khyber Pakhtunkhwa with 9,692 acres, and Azad Jammu and Kashmir with only 577 acres.

 Following are some of the main causes of this large scale deforestation in Pakistan.

  1. Due to the construction of dams and barrages to supply water to crops on millions of hectares, most of the forest land is cleared. This construction of barrages also serve as a cause of deforestation.
  2. Sprawling growth of cities has converted forests into cities thus losing the forest or decrease in forest area. According to some sources, around 32 % people of Pakistan live in urban areas and if the current growth rate of urbanization is kept, Pakistan’s urban population will surpass the rural one by 2030.
  3. The building of roads in order to have access to the far flung areas has also caused deforestation especially in areas of Kohistan and Northern areas.
  4. The increase in demand of industries has also caused deforestation as most of the industries require wood as their fuel. Wood industries such as hardwood and safety match box, Plywood etc have also played their part in deforestation.
  5. Overgrazing of land by cattle, sheep, and goats have converted subtropical, and tropical thorn forest areas into deserts.

 

صحرائی علاقہ کے رہائشیوں پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات

ضلع لیہ ،جھنگ اور مظفر گڑھ پنجاب کے ایسے اضلاع ہیں جن کا رقبہ دو طرح کاہے ایک دریائی علاقہ یا نشیبی علاقہ ہے اور دوسرا حصہ صحرائی یا ریتلا علاقہ ہے۔ان اضلاع میں ہمیشہ دو قسم کی آفات کا خطرہ رہتا ہے اگر دریاؤ ں میں پانی زیادہ آئے تو دریائی علاقہ کے لوگوں کے لئے سیلابی آفت بن جاتی ہے۔
ان اضلاع کے صحرائی علاقہ کی فصلات کا انحصار بارشوں پر ہوتا ہے پہلے تو صحرائی علاقہ کے لوگوں کو صرف خشک سالی جسیے آفت کا ڈر رہتا تھا لیکن موسمیاتی تبدیلیوں نے اس علاقہ کے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرنا شروع کردیا ۔ان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے ساتھ تحفظ خوراک بھی خدشہ کا شکار ہے۔بلکہ خوراک میں واضح طور پر کمی ہو رہی ہے ۔صحرائی علاقہ جات کی اہم ترین فصل چنا ہے یہاں کے مقامی لوگوں کی روزی کا اہم ترین ذریعہ چنا کی فصل ہے اب ان علاقوں میں وقت پر بارشیں نہ ہونے سے اس فصل کی کاشت دیر سے ہونے لگی ہے اسی کے ساتھ ان علاقوں میں اس فصل کی برداشت مارچ کے مہینہ میں مکمل کر لی جاتی تھی پچھلے چند سالوں سے جو بارشیں جنوری کے مہینہ میں ہوا کرتی تھیں اب وہ بارشیں مارچ کے مہینہ میں ہو رہی ہیں۔اس وقت فصل پکنے والی ہوتی ہے اس فصل کو کیڑا لگ جاتا ہے وہ فصل کاکا فی حد تک نقصان کر دیتا ہے جہاں پر ان موسمیاتی تبدیلیوں نے مقامی زمیندار کی فصل کا نقصان کیا ہے وہاں پر زرعی مزدور کی معاشی زندگی کو بھی نقصان پہنچایا ہے ۔اس سے پہلے یہ زرعی مزدور ان علاقوں میں چنے کی فصل کی کٹائی کرتا تھا یہ کٹائی کا سلسلہ مار چ کے مہینہ میں اختتام پذیر ہو جاتا تھا ۔اور پھر گندم کی کٹائی کا سلسلہ شرو ع ہوتا تھا اور یہ مزدور اپریل کے مہینہ میں گندم کے علاقوں میں جا کر گندم کی کٹائی کر کے اپنی گھریلو ضروریات کے لئے سال بھر کی گندم اکٹھی کر لیتا تھا اب جبکہ چنا کی فصل کی برداشت بھی اپریل کے مہینہ تک چلی گئی ہے جس سے یہ زرعی مزدور ایک فصل سے مزدوری حاصل کر سکتا ہے اور دوسری فصل یعنی گندم کی مزدوری سے محروم ہو جاتاہے ۔اس وجہ سے ان علاقوں کے رہائشی زرعی مزدور معاشی بدحالی کے ساتھ ساتھ خوراک کی کمی کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔
اس سال 2017 ء ؁ میں ضلع لیہ کی صحرائی تحصیل چوبارہ کی مختلف یونین کونسل میں مارچ اور اپریل کے مہینوں میں انتہائی شدید قسم کی بارشیں ہوئی ہیں جس نے گندم کی کھڑی فصل کی بڑے پیمانے پر تباہی کی ۔صوبائی وزیر آفات و بلیات نے علاقہ کا وزت کیا اور اس علاقہ کو آفت زدہ قرار دیا اور اسی علاقہ کے متاثرہ لوگوں کی مالی امداد کا اعلان بھی کیا۔

تیزی سے بدلتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات زرعی زمین اور دریائی کٹاؤ

پاکستان میں دریائی کٹاؤ اس سال ہر سال کے مقابلہ میں بہت ہی زیادہ ہو رہا ہے نہ صرف متاثرہ علاقہ کے لوگ اس آفت سے پریشان ہیں بلکہ اتنی شدید زمینی کٹاؤ سے گورنمنٹ کے اداروں میں بھی انتہائی تفشیش ناک صورت حال پائی جا رہی ہے اور اسی کے ساتھ سیاسی حلقہ بھی پریشان نظر آرہا ہے۔ اس کی اصل وجہ موسم کی بے جا بدلتی ہوئی صورتحال ہے اور بے موسمی مون سون بارشوں کا سلسلہ ہے اس سے قبل بارشی سلسلہ 15 جولائی سے شروع ہوتا تھا اور 15 ستمبر تک جاری رہتا تھا اسی سلسلہ کے دوران سیلاب میں شدت آتی اور مسلسل سیلابی ریلے دریائی گزر گاہوں سے ایک سطح کو برقرار رکھتے ہوئے گزر جاتے تھے جس سے دریائی علاقہ جات میں زمینی کٹاؤ کم ہوتا تھا جس وقت پانی دریائی کناروں سے بالکل نچلی سطح پر چلا جاتا تھا تو اس سے زمینی کٹاؤ کا دورانیہ بالکل کم بلکہ چند دنوں کا ہو جاتا تھا جس سے مجموعی طور پر دریا کی دونوں اطراف سے کم ایکڑ اراضی دریا برد ہوتی تھی دراصل دریائی کٹاؤ اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب سیلابی ریلے گزرنے کے بعد پانی نچلی سطح پر آرہا ہواور کناروں سے نیچے اتر رہا ہو اس وقت پانی کا بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے جس سے زمین کے کٹاؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
اب جبکہ موسمیاتی تبدیلیاں ہو ئی ہیں جس کی وجہ سے مون سون بارشی سلسلہ جون کے پہلے ہفتہ سے شروع ہو جاتا ہے اوریہ سلسلہ 15 ستمبر تک جاری رہتا ہے یہ مون سون کی بارشیں ایک ساتھ برسنے کی بجائے وقفہ در وقفہ ہو رہی ہیں ۔جس کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کی سطح مختلف وقت میں بلند اور کم ہوتی رہتی ہے۔ایک ہفتہ میں ایک دو بارشیں شدید ہوتی ہیں جیسے پانی کی سطح دریاؤں میں کناروں تک بلند ہو جاتی ہے اور پھر چند دن بارشیں نہیں ہوتی اور پانی اپنی سطح سے نیچے آنا شروع ہو جاتا ہے اور پانی کے بہاؤ کی رفتار میں تیزی آجاتی ہے جس سے زمینی کٹاؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر چند دنوں کے وقفہ کے بعد پھر بارشیں ہو جاتی ہیں ۔اسی سلسلہ کی وجہ سے پانی کی سطح میں اتار و جڑھاؤ کافی عرصہ تک رہتا ہے جس سے دریاکا زمینی کٹاؤ ایک لمبے عرصہ تک جاری رہتا ہے اس سال ضلع لیہ میں شدید دریائی کٹاؤ کے ساتھ ساتھ پنجاب اور سندھ کے دوسرے مختلف اضلاع میں بھی ہزاروں ایکڑ اراضی دریا برد ہوئی ہے زرعی زمین اور فصلات کے ساتھ ساتھ کئی انسانی آبادیاں اور گھر بھی دریائی کٹاؤ کی زد میں آئے ہیں ۔نہ صرف فصلات تباہ ہوئی ہیں بلکہ کئی گھرانے بے گھر ہوئے ہیں ۔بلکہ گھرانہ ہی نہیں کئی کئی بستیاں دریائی کٹاؤ کی زد میں آگئی ہیں۔کھڑی فصلوں کی تباہ کاری سے نہ صرف مقامی آبادیاں معاشی بدحالی کا شکار ہورہی ہیں بلکہ خوراک کی کمی کے اضافہ کا سبب بنا ہے ۔دریائی کٹاؤ کے لئے مقامی سطح پر اخباری نمائندے انجم سحرائی نے ڈسٹرکٹ فورم کے ممبران اور دوسری میڈیا ٹیموں کے ہمراہ ان علاقوں کا وزٹ کیا ۔اس تباہ کاری کے عملی اقدام کے لئے حکومت سے درخواست کی ہے اس علاقہ کے متاثرین کو جو بے گھر ہیں اور بے زمین ہیں حکومت ان کو گھر بنانے کیلئے زمین کی فراہمی کرے اور ساتھ گھر وں کی تعمیرات کے لئے تعاون کرے۔
اسی کے ساتھ صوبائی وزیرآفات و بلیات مہر اعجاز احمد اچلانہ نے ہمراہ D.C لیہ متاثرہ علاقہ کا وزٹ کیا اس شدید کٹاؤ سے شکار ہونے والی آبادیوں کو متبادل زمین کی فراہمی کا بھی حکم جاری فرمایا اسی کے ساتھ ضلعی سطح پر مزید امداد کی یقین دہانی بھی کرائی۔

صحرائی علاقہ کے رہائشیوں پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات 
ضلع لیہ ،جھنگ اور مظفر گڑھ پنجاب کے ایسے اضلاع ہیں جن کا رقبہ دو طرح کاہے ایک دریائی علاقہ یا نشیبی علاقہ ہے اور دوسرا حصہ صحرائی یا ریتلا علاقہ ہے۔ان اضلاع میں ہمیشہ دو قسم کی آفات کا خطرہ رہتا ہے اگر دریاؤ ں میں پانی زیادہ آئے تو دریائی علاقہ کے لوگوں کے لئے سیلابی آفت بن جاتی ہے۔
ان اضلاع کے صحرائی علاقہ کی فصلات کا انحصار بارشوں پر ہوتا ہے پہلے تو صحرائی علاقہ کے لوگوں کو صرف خشک سالی جسیے آفت کا ڈر رہتا تھا لیکن موسمیاتی تبدیلیوں نے اس علاقہ کے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرنا شروع کردیا ۔ان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے ساتھ تحفظ خوراک بھی خدشہ کا شکار ہے۔بلکہ خوراک میں واضح طور پر کمی ہو رہی ہے ۔صحرائی علاقہ جات کی اہم ترین فصل چنا ہے یہاں کے مقامی لوگوں کی روزی کا اہم ترین ذریعہ چنا کی فصل ہے اب ان علاقوں میں وقت پر بارشیں نہ ہونے سے اس فصل کی کاشت دیر سے ہونے لگی ہے اسی کے ساتھ ان علاقوں میں اس فصل کی برداشت مارچ کے مہینہ میں مکمل کر لی جاتی تھی پچھلے چند سالوں سے جو بارشیں جنوری کے مہینہ میں ہوا کرتی تھیں اب وہ بارشیں مارچ کے مہینہ میں ہو رہی ہیں۔اس وقت فصل پکنے والی ہوتی ہے اس فصل کو کیڑا لگ جاتا ہے وہ فصل کاکا فی حد تک نقصان کر دیتا ہے جہاں پر ان موسمیاتی تبدیلیوں نے مقامی زمیندار کی فصل کا نقصان کیا ہے وہاں پر زرعی مزدور کی معاشی زندگی کو بھی نقصان پہنچایا ہے ۔اس سے پہلے یہ زرعی مزدور ان علاقوں میں چنے کی فصل کی کٹائی کرتا تھا یہ کٹائی کا سلسلہ مار چ کے مہینہ میں اختتام پذیر ہو جاتا تھا ۔اور پھر گندم کی کٹائی کا سلسلہ شرو ع ہوتا تھا اور یہ مزدور اپریل کے مہینہ میں گندم کے علاقوں میں جا کر گندم کی کٹائی کر کے اپنی گھریلو ضروریات کے لئے سال بھر کی گندم اکٹھی کر لیتا تھا اب جبکہ چنا کی فصل کی برداشت بھی اپریل کے مہینہ تک چلی گئی ہے جس سے یہ زرعی مزدور ایک فصل سے مزدوری حاصل کر سکتا ہے اور دوسری فصل یعنی گندم کی مزدوری سے محروم ہو جاتاہے ۔اس وجہ سے ان علاقوں کے رہائشی زرعی مزدور معاشی بدحالی کے ساتھ ساتھ خوراک کی کمی کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔
اس سال 2017 ء ؁ میں ضلع لیہ کی صحرائی تحصیل چوبارہ کی مختلف یونین کونسل میں مارچ اور اپریل کے مہینوں میں انتہائی شدید قسم کی بارشیں ہوئی ہیں جس نے گندم کی کھڑی فصل کی بڑے پیمانے پر تباہی کی ۔صوبائی وزیر آفات و بلیات نے علاقہ کا وزت کیا اور اس علاقہ کو آفت زدہ قرار دیا اور اسی علاقہ کے متاثرہ لوگوں کی مالی امداد کا اعلان بھی کیا۔