گلیشیئرز اور درپیش مسائل

تخلیق کائنات کے بعد اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کو خلق کیا انسان کو اشرف مخلوقات کا شرف بخشنے کے ساتھ ساتھ ضروریات زندگی کا بھی بندوبست کیا۔ تمام تر نعمات خداوندی سے آراستہ انسان اپنے معمول زندگی کو سمجھ کر اپنے خالق حقیقی کی پیروی کرنے لگا۔ انسانوں کی تبلیغ و تربیت کے لئے خداوند متعال نے جا بجا اپنے نمائندے مقرر کیے جو کہ اپنے اپنے ادوار میں آکر انسان سازی اور ترویج میں اپنا بہترین کردار ادا کیا۔ قدرت کے کرشمے ہر سمت بکھر گئے جن سے بنی نوع انسان مستفید ہو سکیں۔ ان کرامات الہیہ میں سے سب سے بڑی کرامت و نعمت خداوندی پانی کو قرار دی گئی ہے جسکی وجوہ سے تخلیق انسانیت وجود میں آئی۔ پانی کی نعمت بنی نوع انسان کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے ایک بڑا اور اہم تحفہ ہے۔ پانی زندگی بخشتا ہے پانی کے بغیر نظام زندگی درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ پانی کے بغیر انسان تو کیا دنیا کی کوئی بھی شے زندہ نہیں رہ سکتی۔ پانی ہی ہے جو بنجر سے بنجر زمین کو بھی سیراب کرکے تازگی بخشتا ہے۔ پانی کا سب سے بڑا منبع و ذریعہ گلیشیئرز کو مانا جاتا ہے۔ گلیشیئرز ہی کی بدولت ہمیں پانی جیسی نعمت میسر ہوتی ہے۔ قدرت کے تمام انتظامات میں سے سب سے بڑا انتظام گلیشیئرز کا ہے۔ گلیشیئرز کے بغیر پانی حاصل کرنا ناممکن و محال ہے اور نظام زندگی بھی ممکن نہیں۔ پاکستان میں حالیہ پانی کی قلت کا سامنا ہے اور سخت مشکلات درپیش ہیں۔ گرمی کی شدت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اسی طرح پانی کی بھی مقدار میں کمی ہورہی۔ ڈیموں کا پانی قدرے خشک ہوتا جا رہا ہے اور عوام بے حال ہوئے جارہے۔ دوسری جانب گلیشیئرز کا پگھلاو تیزی سے ہورہا ہے کیونکہ گرمی کی شدت اور ماحولیاتی آلودگی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ غیر معمولی حرارت کے اضافے کے باعث برف کا پگھلاو عروج پر ہے اسی طرح دریاؤں کا پانی بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے آس پاس کے آبادیوں کو سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح وہاں کے لوگوں کو بھاری نقصان پہنچتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ سلسلہ کئی برسوں تک جاری رہے گا پھر دھیرے دھیرے گلیشیئرز پگھل کر ختم ہو جائنگے جس کے نتیجے میں دریاؤں میں پانی کی قلت واقع ہوگی اور لوگ سخت محرومی سے دوچار ہونگے۔
حالیہ ایک اندازے کے مطابق یہ بات ذیر غور لائی گئی ہے کہ دنیا بھر میں گرمیوں کا سلسلہ جلد شروع ہوتا ہے اور ان گرمیوں کا دورانیہ لمبے عرصے تک برقرار رہتا ہے اس طرح سردیوں کے لئے کم ہی وقت بچتا ہے جسکی وجہ سے برفباری کی شرح میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اسی طرح گلیشیئرز کے جمنے کا بھی کم ہی امکان ہوتا ہے جہاں گلیشیئرز پائے جاتے ہیں وہ علاقے کافی ٹھنڈے ثابت ہوئے ہیں اب گرمیوں کی شدت کی وجہ سے ان گلیشیئرز کا پھگلاو بہت جلد ہوکر پانی کے بہاو میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
جیو سائنس یونین کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2100ء تک ہمالیہ کے ستر فیصد گلیشیئرز پھگل کر ختم ہو جائنگے اور دوسری جانب نظر دوڑائی جائے تو درجہ حرارت کی اضافت سے گلگت بلتستان اور چترال کے مختلف مقامات میں 5000 سے زائد گلیشیئرز بڑی تیزی سے پھگل رہے ہیں۔ منسٹری آف کلائمٹ چینج کے مطابق گلوبل وارمنگ جو آج صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا ایک سنگین مسئلہ بن کر رہ گیا ہے جسکی وجہ سے گلیشیئرز کا تیزی سے پھگلاو، شدید گرمی، سطح سمندر میں اضافہ، خشک سالی میں اضافہ اور زمین بنجر ہونے کے شدید خدشات لاحق ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے گلیشیئرز کے پھگلاو میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے دریائے سندھ کے پانی میں اضافہ بھی محسوس کیا گیا۔ جس کے نقصانات کافی حد تک پریشان کن ہیں۔ 
گلوبل وارمنگ جو آج کا سب سے بڑا سنگین مسئلہ ہے جسکی وجہ سے بارشوں میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں برفباری کا دورانیہ بہت قلیل ہوتا جارہا ہے۔ برفباری کے اس کم دورانیے کی وجہ سے برف گلیشیئرز میں زیادہ عرصے تک نہیں رکتی جسکی بدولت گلیشیئرز میں اضافہ کے بجائے کمی لاحق ہوتی ہے۔ ان دونوں بدلتے ہوئے موسموں کی وجہ سے گلیشیئرز کے پھگلاو کا شدید سامنا ہے۔ جس کے بدلے میں پانی کے بہاو میں اضافہ ہوکر ارد گرد کے علاقوں میں سیلاب کا خدشہ ہے جس پر علاقہ نشین شدید اور بھاری نقصان کی ذد میں آتے ہیں شدید پانی کے بہاو کی وجہ سے زمینی کٹاو بھی ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان کے اکثر و بیشتر علاقوں میں بڑی تعداد میں گلیشیئرز پائے جاتے ہیں جو کہ ہمارے لئے انتہائی کارآمد اور اہم ہیں۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے بات کی جائے تو مستقبل قریب میں سی پیک کا بول بالا ہو گا مگر یہ گلیشیئرز کے لئے بہت بڑا نقصان دہ ثابت ہوگا کیونکہ براستہ گلگت سی پیک تو گزرے گا مگر اسکے نقصانات چونکا دینے والے ہونگے اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہوگی کہ بھاری تعداد میں ٹریفک کا گزر ہوگا جس کی وجہ سے ماحولیاتی و فضائی آلودگی میں قدرے اضافہ ہوگا بھاری تعداد میں ٹریفک کی آمدو رفت سے زہریلی گیسوں کا اخراج ہوگا جس کی وجہ سے فضائی آلودگی برھ جائے گی اور گلیشیئرز کے پھگلاو کا عمل تیز سے تیز تر ہوتا جائے گا۔
ہر سال گلگت بلتستان میں سردیوں کے دوران 80 فیصد لوگ لکڑی کا استعمال کرتے ہیں جس کے باعث 70 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوتا ہے جس سے ماحول تباہی کا شکار ہوتا ہے اسکے علاوہ آج کل جنگلات کا کٹاو عروج پر ہے جو کہ آج ہمارے لئے سب سے بڑا سنگین مسئلہ ہے کیونکہ جنگلات کے بے تحاشا کٹاو کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں دن بہ دن اضافہ ہوتا ہے۔ لوگ جوق در جوق جنگلات کی کٹائی میں اضافہ کرتے ہیں مگر اس کے بدلے میں نئے جنگلات کا اگاو نہیں نہیں کرتے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ دیکھا گیا ہے کہ صرف ایک درخت 30 لوگوں کو آکسیجن فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر اندازہ لگایا جائے تو جنگلات کی اندھا دھند کٹائی کس طرح جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔
گلوبل وارمنگ کے باعث درجہ حرارت میں آنے والی تغیرات سے گلیشیئرز کے پھگلاو کا عمل تیز ہوتا ہے ان وجوہات کے باعث بہت سے سنگین خطرات ابھر کر سامنے آتے ہیں جن میں لینڈ سلائڈنگ، زلزلے اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز کا اپنی جگہ سے سرکنا یا برفیلے تودوں کا زمین پر گرنا شامل ہیں۔ جن کی وجہ سے عام علاقہ نشینوں کی زندگیوں کے گزر بسر کے لئے شدید خطرات لاحق ہیں۔
ایک سروے کے مطابق ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش مل کر دنیا کا سب سے بڑا پہاڑی سلسلہ بناتے ہیں جوکہ گلگت جگلوٹ کے مقام پر آکر ملتے ہیں ان پہاڑی سلسلوں کو دنیا کا سب سے بڑا برف کا ذخیرہ مانا جاتا ہے اور یہ پہاڑی سلسلے ایشیاءکے سات بڑے دریائی نظام کے ذریعے 17 ارب لوگوں کی خوراک کا وسیلہ ہیں۔ مگر حالیہ رپورٹ کے مطابق ان پہاڑی سلسلوں کی برف میں بے تحاشاپگھلاو کا سامنا ہے اور ان پہاڑی سلسلوں کی برف کا پگھلاو کوئی آفت سے کچھ کم نہیں۔ 
ان خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت وقت کو چاہیے کہ گلیشیئرز کے پھگلاو کے روک تھام کے متعلق آگاہی مہمات کا انعقاد کیا جائے جن میں لکڑی کا استعمال ایک حد تک کم ہو۔ جنگلات کے کٹاو پر پابندی، ٹریفک کو محدود کر دیا جائے۔ جنگلات میں اضافے کے لئے سالانہ شجرکاری کی جائے۔ اور دریاؤں کے 

South Asia and Climate Change

Climate change is one of the greatest threats the world is facing today. There is a scientific consensus that the earth is warming up and climate change is happening everywhere. Although the issue is a global phenomenon, the impacts of it will not be felt in equal proportion across the world. It is irrefutable that the impacts are likely to differ in both magnitude and rate of changes in different continents, countries, and regions. South Asian countries are facing negative impacts of climate change on their lives and livelihoods. The fourth report of the intergovernmental panel on climate change (IPCC) and first assessment report of Indian network of climate change Assessment (INCCA) confirm that climate change is likely to increase the frequency and intensity of climate-related hazards and also the emergence of new catastrophes that could manifest in the form of sea level rise and new vulnerabilities with various spatial and socio-economic impacts on communities.

In South Asia, glaciers of the Himalayas have the largest storage of ice outside the polar region. Melting of this reserve is the source of some of the world’s biggest rivers. In the rainy seasons, these glacial melts, coupled with heavy rain, may cause flood which hampers the lives and livelihoods of the people of the region.

Even small climate-related hazard can cause irreversible damage to a large number of people. The region also suffers from a large number of natural disasters. Over the past forty years, South Asian countries faced as many as 1,333 disasters that killed 980,000 people, affected 2.4 billion lives and damaged assets worth US$105 billion. From 1990 to 2008, more than 750 million people were affected by natural disasters which caused the death of about 60,000 people and about US$ 45 billion in damages.

BANGLADESH:

The low-lying areas of South Asia or large deltas and coastal areas of the region could be drowned by sea level rise. Climate change has affected the agriculture of Bangladesh that forced people to migrate from rural to urban areas. Cyclone ‘Aila’ hit Bangladesh in 2009 which forced 200,000 people of Southwestern part to migrate from homes and the damage totaled US$269.28 million. Under the current trends of climate change, per capita, water availability in 2025 will become 7,670 cubic meters against 12,162 cubic meters in 1991. Such reduction will affect the huge population of Bangladesh during the dry season while the current availability is already very low in the country.Such complex changes will have adverse impacts on the agricultural system and food production of the country.

  • INDIA:

India is also one of the major victims of climate change. By one estimate, climate change will cause a 30-40 percent drop in India’s agricultural output by 2080.It is projected that under the scenario of 2.5°c to 4.9°c temperature rise, rice yields will drop by 32-40 percent and wheat yields by 41-52 percent and this would cause Gross Domestic Product (GDP) to fall by 1.8-3.4 percent. A World Bank study reveals that about 700 million people of India will be forced to migrate from rural to urban areas due to the adverse impact of climate change on agriculture.Climate change may cause a rise of up to 4°c in surface air temperature by 2100 and a rising number of extreme weather events, such as droughts, floods, and cyclones in India.Furthermore, anomalies in global climate pattern pose a serious threat to the urban water supply of India. According to IPCC, by the year 2030, Himalayan glaciers will shrink from 500,000 km2 to 100,000 km2 affecting north Indian rivers where 50 percent of the water comes from snow melt.

  • PAKISTAN

Pakistan has an area of over 88 million hectares which includes a variety of landscape ranging from high mountain ranges to stark deserts. Climate change could make the country more vulnerable to natural disasters. Climate change in Pakistan is expected to increase glacial melt, sea level rise along its coast and increase periods without precipitation. Due to various climate related disasters in past 40 years, the total death toll exceeds 90,000 and total recorded losses from disaster amounted to US$20 billion, including the US$10 billion losses caused by the 2010 flood.According to a study, by 2020, the temperature in Pakistan is expected to increase by 0.9°c doubling to 1.8°c by 2050. Scenarios for sea level rise include 20 cm by 2020 and 30 cm by 2050. The Indus River and its tributaries dissect the country, providing a source of the world’s largest contiguous irrigation network.In Pakistan, potentially huge and rapid reductions in Indus’ flows, coupled with intensified droughts and sea level rise, will require major livelihood transitions and economic transformation with consequent risks of social upheaval.

  • SRI LANKA:

Sri Lanka is also vulnerable to the effects of global climate change as major parts of the country will be submerged with rise in sea level. Climate change will bring dire consequences for the country for water, agriculture, health and coastal regions. As there are early signs of impacts, there are strong possibilities to reach serious proportions by 2025.Therefore, any adverse changes in already volatile weather patterns are likely to impact on the socio-economic activities of the country.In case of climate change, Sri Lanka might experience widespread effects, including climate variability and sea level rise, directly affecting the overall abundance and security of endemic species within the country.

  • MALDIVES:

Maldives is also at a high stake of global climatic change. The country consists of about 1,200 islands on the Indian Ocean. Asian Development Bank Economic Report for South Asia revealed that if the climate change would not be checked, Maldives would face losses of over 12 percent of its GDP by the end of this century and 1-meter sea level rise would inundate 66 percent of the archipelago’s land area which would affect tourism industry, the lifeline of the country’s economy.The natural beauty and tourism industry of Maldives is mainly centered on its beautiful sea beach, which represents 5 percent of the country’s total land area. It is to be noted that more than 97 percent inhabitants of islands reported beach erosion in 2004, of which 64 percent reported severe erosion and more than 45percent of the tourists have also reported about severe erosion.In the long run, climate change will threaten the entire country’s existence. The highest point of the country is 8 feet above sea level.Therefore; the country will be severely affected by global sea level rise. Along with rising sea levels, increased beach erosion, more powerful storms, higher storm surges and threats to biodiversity are among the major threats to the Maldives due to climate change over the coming decades.

  • NEPAL:

Nepal is a country of diverse climatic conditions, ranging from tropical in the south to alpine in the north. The country is facing problems like drought and flooding and there are possibilities that these will be magnified by climate change in future. In 1999, temperatures were increasing in Nepal and rainfall was becoming more variable. A decade later, in 2009, a modeling exercise conducted by a team of Nepali, American, British, Pakistani and Bangladeshi experts using the emissions scenarios in the IPCC’s special report (2007), found that the temperature would indeed increase in the mid-hills and the region was likely to grow more arid in non-monsoon seasons. It also suggested that precipitation was likely to be more uncertain and that storm intensity would increase.

  • BHUTAN:

Bhutan is part of the Eastern Himalayan region which contains part of three global biodiversity hotspots, 60 ecoregions, 330 bird areas, 53 important plant areas, a large number of wetlands and 29 Ramsar sites. Bhutan is a country of diverse array of flora and fauna including 5,603 species of vascular plants, 400 lichens, 200 mammals and about 700 birds.In future, climate change is likely to affect Bhutan in various ways e.g., changes in hydrological cycles may affect present level of drinking water of the country. As 80 percent of Bhutanese practice subsistence farming, climate change can cause changes in temperature which will increase the vulnerability of a large group of this population.In addition, climate change will affect forests, biodiversity as well as human health badly with increasing number of natural disasters.

  • AFGHANISTAN:

Afghanistan is the last country to join SAARC in 2007. The country is mountainous and very dry which has an arid and semi-arid continental climate with cold winters and hot summers. Due to climate change, Afghanistan is currently suffering from droughts. Available data and trends from neighboring countries indicate that mean annual temperature has increased by 0.6 °c since 1960, at an average rate of around 0.13 °c per year.

According to the IPCC report, people living in developing countries in low altitudes, particularly those along the coast of Asia will suffer the most. Some small island states are expected to face very high impacts. Hence, countries like Bangladesh and Maldives have possibilities to become worst sufferers. The consequences of climate change will be drastic for the region as about 70 percent of South Asians lives in rural areas and account for about 75 percent of the poor, who are the most impacted segments by climate change.

خوشحالی بمقابلہ خشک سالی

محب وطن کہتے ہیں کسی ملک کی خوشحالی اور ترقی کو دیکھنا ہو کہ اس پہ خدا کا کتنا کرم ہے تو اس ملک کے لوگوں سے پوچھیں ان کے پاس سمندر ہے پھر یہ دیکھیں کہ اس کے پاس پہاڑاور گلیشئیر ہیں دنیا کی آٹھ بلند ترین اور خوبصورت چوٹیوں میں سے چھے پاکستان کے پاس ہیں پاکستان کا 40%رقبہ میدانی ہے جس پہ مختلف قسم کی فصلات اگائی جاتی ہیں سب سے بڑا نہری نظام پاکستان کے پاس ہے ،خزاں،بہار ،موسم گرما،سرما پاکستان کے حصے میں آتا ہے ۔
اگر ماضی میں دکھیں اور اپنے بزرگوں سے پوچھیں تو وہ بتاتے ہیں ان کا دور بہت ہی اچھا تھا ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی تھی سبزہ ہی سبزہ ہوتا تھا قسم قسم کے رنگ برنگی پرندے بدلتے موسم کے ساتھ ان کی زندگی میں رنگ بکھیرتے تھے صبح کی جاگ چڑیوں کی سریلی اواز سے ہوتی تھی ۔پت جھڑ کے موسم میں نیم کے پتوں سے بھرے آنگن میں چلنے سے سارے گھر میں اواز سے عجیب سا سرور ہوتا تھا ۔لیکن اب نا رنگ برنگی پرندے رہے نادرخت موسمیاتی تبدیلیوں کے ایٹم بم نے سب تباہ کر دیا گلوبل وارمنگ سے خوشحالی خشک سالی میں تبدیل ہو گئی ہے پرندوں کی سریلی اواز کی جگہ اب گرم ہواوٗں کی شائیں شائیں سنائی دیتی ہیں درخت کی ٹھنڈی چھاوٗں کی جگہ اب جحھلسا دینے والی گرمی ہوتی ہے دریا خشک ہو رہے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی بدلتی صورت حال پہ قابو نا پایا گیا تو زمیں کا چپہ چپہ بنجر بن جائے گا زمین بھی کائنات کے دوسرے سیاروں کیماند نذر آنے لگے گی موسم گرما کا دورانیہ ناقابل برداشت حد تک بڑھ جائے گا گلیشیئر پگھل کر سمندر کا حصہ بن جائیں گے تب خوشحالی صرف تاریخی کتابوں اور میوزیم کی حد تک ہوگی ۔
دنیا کا ہر بندہ اس کا زمہ دار ہے ابھی بھی وقت ہے ہمیں گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنا ہو گا اس سے پہلے کہ وقت ہمارے ہاتھوں سے وقت نکل جائے ہمیں ابھی سے مل بیٹھ کہ مناسب لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا ماحول ہمارہ گھر ہے جس طرح ہم اپنے گھر کی ایک ایک چیز کا احساس اور خیال رکھتے ہیں ویسے ماحول کا خیال رکھنا ہو گا اسے بھی I.C.Uکی ضرورت ہے تا کہ آنے والے وقتوں میں خوشحالی ڈیڈ نا ہو جائے۔

Tone Down the Heat

In dealing with climate change we need to take the heat out of our cities:

Renewable energy sources, energy efficient design, fossil fuel purification, electric vehicles and carbon reduction are all necessary measures when talking about environmental sustainability.

However, these measures are all focused on reducing greenhouse gas concentrations. They do nothing to address the massive amount of heat stored in, and emitted from, our urbanized lifestyles.  This nefarious process occurs in every city on the planet – inevitably impacting on regional climates and subsequently on the global climate. But solutions to it have largely been absent from conversations about climate change.

If we can figure out how to remove this thermal pollution, then the climate-changing toxicity of greenhouse gases is rendered relatively innocuous.

Huge concentrations of these gases are already replete in the atmosphere and are very long-lived. So even if we miraculously stopped emitting all thermally sensitive gases, the global climate will continue to warm and be increasingly disrupted for at least the next 100 years.

Get the heat out

The only reasonable and timely remedy is to take the heat out of the equation.

A range of challenging consequences emerge from not moderating thermal pollution. Hundreds of thousands of massive hotspots are generated in the global climate system with extreme urban-climate weather events visited upon cities. Excess heat also impacts negatively on the general health, wellbeing and comfort of citizens. It is lack of relief at night, rather than high daytime temperatures, that puts people at most risk from heat stress.

Moreover, a significant quantity of fossil-fuelled energy is expended to cool buildings and vehicles to mitigate the negative effects of this thermal effect.

The major culprit in this thermal pollution equation is the “designed environment” – or the way a city is built.

In principle, medium-density, mid-rise cities with good sky-views set on narrow labyrinth street grids that shade and ventilate more naturally, help moderate heat excess. Massive high-rise canyon-cities, set on wide, dark, right-angle roads and concrete sidewalks, excessively trap and emit heat.

Whatever the form of a particular setting, there are hundreds of elements in the designed environment that are involved, each absorbing and emitting heat, in a never-ending cycle, from dawn to dusk to dawn.

You can download a study conducted in Victoria Park, Sydney using an infra-red thermal camera, rendering these otherwise invisible elements visible, here [The link will download it]: https://cityfutures.be.unsw.edu.au/documents/36/Final_Report_Hassell.pdf

The principle is simple. When the atmosphere is warmer than the elements in the designed environment, they absorb some of that warmth. When they are radiating at higher temperatures than the ambient air, they transfer some of their heat to it. From the measured infrared imagery from a study in Sydney, you can see the differences between elements and their maximum and minimum temperatures over 24-hours.