گلوبل وارمنگ اور انوکھی مشین برائے تحفظِ ماحول

ماحول کا زندگی سع گہرا تقلق ہے۔ انسان کی بہتر آسائشوں کے لئے دوڑ، صنعتوں میں بے تحاشااضافہ اور توانائی کا بڑھتا ہوا استعمال ماحولیاتی آلودگی کی صورت میں ہمارے لئے وبالِ جان بن چکا ہے۔ بقول شاعر!
بدن صبا کا یکسر دھویں میں لپٹا ملا
نسیم بھی لئے گردو غبار گزری ہے
انسانی کاروائیاں (Anthropogenic Activities) نظامِ ارضی پر بہت زیادہ اثر ڈال رہی ہیں جسکے نتیجے میں ہونے والی ماحولیاتی تغیرات ہمارے موسم، نباتات اور حیوانات کو متاثر کر رہے ہیں۔ نباتات اور ہماری فصلوں کا اُگنا، پھول اور پھل آنا مناسب ماحولیاتی شرائط سے مشروط ہے۔ ماحولیاتی تغیرات نہ صرف ہماری غذائی فصلوں کی پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ ان سے بارشوں اور ہواؤں کے سلسلہ جا ت بھی بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ان تغیرات کے نتیجہ میں نت نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں ۔ ماحول میں یہ بگاڑ، بے ترتیبی اور بے قاعدگی خود انسانی حیا ت کے لئے عذاب سے کم نہیں ہے۔
انسانی کاروائیوں نے نظامِ ارضی کو اسکی نارمل حدود سے باہر دھکیل دیا ہے۔ گلوبل وارمنگ (Global Warming)اور موسمی تغیرات (Climate Change) کا باعث بننے والی گیسوں کا اس بگاڑ میں حصہ درج ذیل ہے۔
1. کاربن ڈائی آکسایئڈ (Carbon Dioxide CO2) 55%
2. کلورو فلورو کاربنز (CFCs) 17%
3. میتھین (Methane) 15%
4. نائٹرس آکسائیڈ (Nitrous Oxides) 05%
5. دیگر گیسیں (Other Gases) 08%
نارمل حدود میں سورج سے آنے والی 70 % حرارت ارضیاتی عوامل میں استعمال ہو جاتی ہے اور 30 % واپس خلاء میں چلی جاتی ہے۔ درج بالا گیسیں سورج کی حرارت کو واپس جانے سے روکتی ہیں ۔ ان گیسوں کو گرین ہا ؤس گیسسز Green House Gases))کہتے ہیں۔ انہی گیسوں کی وجہ سے زمین کا اوسط درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو کہ زمین پر زندگی کے لئے انتہائی مناسب ہے۔ اور ان گیسوں کی غیر موجودگی میں زمین کا درجہ حرارت منفی اٹھارہ سینٹی گریڈ (-18 Co)ہوتا ہے۔ جو کہ زندگی کے لئے موزوں نہیں ہے۔ ان گیسوں کا حرارت کنٹرول کرنے کا یہ اثر گرین ہاؤس ایفیکٹ (Green House Effect) کہلاتا ہے۔
ایندھن (کوئلہ ، تیل ، گیس، لکٹری وغیرہ ) کے بے دریغ استعمال اور دیگر انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے گرین ہا ؤس گیسسز کا فضا ءمیں تناسب نارمل سے بڑھتا جا رہا ہے اور اس بڑھتے ہوئے گرین ہاؤس ایفیکٹ (Enhanced Green House Effect) کو گلوبل وارمنگ (Global Warming) کہتے ہیں ۔ اگر ان گیسوں کے بڑھتے ہوۓ تناسب کو نہ روکا گیا تو 2040 تک زمین کا اوسط درجہ حرارت 3 سینٹی گریڈ تک بڑھ جاۓ گا جس کے نتیجہ میں درج ذیل مسائل کا سامنا ہوگا۔
1. قحط Droughts
2. خوراک کے مسائل Food Security
3. سیلاب اور طوفانی بارشیں Floods & Storm Rains
4. زمینی کٹاؤ Soil Erosion
5. مقامی فصلوں کی تبدیلی Change of Flora
6. سطح سمندر کی بلندی Rise of Sea Level
7. غذائی زنجیر Food Chain/ Eco – System
8. جراثیمی اور ماحولیاتی بیماریاں ڈینگی وغیرہ New Infectious and Environmental Diseases
9. گلئشیرز کا پگھلاؤ Glacier Melting
10. اووزون تہ کو نقصان Depletion of Ozone Layer
11. جنگلات میں کمی Deforestation
گرین ہاؤس گیسسز کے اثرات سے بچنے کے لئے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں۔
I. ان گیسوں کو خارج کرنے والے ایندھن کا کم سے کم استعمال یا متبادل ایندھن کا استعمال یا متبادل ٹیکنالوجی ۔
II. ان گیسوں کو استعمال یا جذب کرنے کے لئے اقدامات۔
III. بدلتے ہوئے موسم کے مطابق غذائی فصلوں کا انتخاب۔
گرین ہاؤس گیسسز کے اخراج اور اثرات کو کم کرنے کے لئے اقوامِ متحدہ کے تحت 196 ممالک کے درمیان عالمی معاہد ہ “Kyoto Protocol Agreement” ہے جس کے تحت 30 نومبر تا 12 دسمبر 2015 معاہدہ کے رکن ممالک کی ایک کانفرنس میں زمینی درجہ حرارت کے تغیر کو 2050 تک زمینی درجہ حرارت کے تغیر کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنے کے لئے عملی اقدامات کا پابند کیا گیا ہے۔ پاکستان بھی اس معاہدے کا ممبر ہے۔گلوبل وارمنگ میں55% حصہ صرف کاربن ڈائی آکسایئڈ گیس کا ہے ۔ اس لئے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ ہر ممبر ملک اس گیس پر قابو پانے کے لئے اقدامات کا متلاشی ہے۔
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے ملک کے مشہور و معروف کاریگر کو اپنے محل میں طلب کیا اور حکم دیا کہ ایک ایسی مشین تیار کرو جو خوبصورت ہو اور انسانی دل ودماغ اور آنکھوں کو ہر وقت اور ہر موسم میں بھلی لگے۔ اس کو چلانے کے لئے نہ تو ایندھن کی ضرورت پڑے اور نہ ہی آپریٹر کی۔ اپنی خوراک تیا رکرنے کی وہ خود ذمہ دار ہو اور ہاں جب وہ مشین کام کرے تو فضاء کو شور اور دھویں سے آلودہ کرنے کی بجائے اسے لطیف اور پاکیزہ بنائےاور آخری بات جب وہ اپنی عمر پوری کرے تب بھی وہ ہمارے کسی نہ کسی کام آئے۔ جاؤ اور ان خوبیوں کی مشین بنا کر لاؤ اور ہم سے منہ مانگا انعام پاؤ۔ذہین کاریگر مسکرایا اور محل کی کھڑکی سے درختوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بادشاہ سے عرض کی عالیجاہ! اپنے محل کی کھڑکی سے ذرا باہر نظر دوڑائیے وہ” انوکھی مشین “ تو پہلے ہی بن چکی ہے اور اسے اس عظیم کاریگر نے بنایا ہے جس نےاس پوری کائنات کو اپنے حُسنِ تدبر سے تخلیق فرمایا ہے۔ یہ انوکھی مشین” درخت “ ہے۔
درخت گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تغیر کا باعث بننے گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اور ہماری بقاء کے لئے ضروری گیس آکسیجن خارج کرتے ہیں ۔ آئیے قدرت کی اس انوکھی مشین کو تحفظِ ماحولیات ، تدارکِ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تغیرات سے بچنے کے لئے لگائیں/ اُگائیں۔یہی تدارک کا سستا ترین اور وسع العمل قدرتی حل ہے۔ اس میں صدقہ جاریہ بھی ہے اور فوڈ سکیورٹی بھی۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے انسان کو استطاعت بخش رکھی ہے کہ وہ اچھے اور برے کا خود انتخاب کرے اور مصیبتوں کا حل تلاش کرے۔
’’ اور انسان کو وہی ملتا ہے جسکی وہ کوشش کرتا ہے۔‘‘ (النجم – 39 )
’’تم پر جو مصیبت آتی ہے وہ تمھارے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے۔‘‘ (الشوریٰ – 30)
درخت زمین کا زیور اور ہمارے لئے زندگی ہیں۔
Environment Protection; “it is in our hands.”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>