گلوبل وارمنگ اور تحفظ خوراک

تحریر: محمد یونس زاہد (اسسٹنٹ ڈارائیکٹر محکمہ تحفظ ماحولیات راجن پور)
ماحول اور زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔زندگی کے لئے رہائش ،خوراک اور توانائی ضروری ہیں ان کے حصول کے لئے انسان ذمینی زرائع کا بے دریغ استمال کر رہا ہے ۔اس غیر پائیدار تر قی کے سلسلہ میں انسانی کارروائیاں نظام ارضی پر بہت برے اثرات کا باعث ہیں۔جس کے نتیجہ میں ہونے والے موسمیاتی و ماحولیات تغیرات سے آب وہوا ،نباتات اور حیوانات نہ صرف متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ان کے خوراک کے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
قدرتی طور پر سورج کی حرارت کا واپس ٖفضا میں جانا ضروری ہے لیکن صنعتی انقلاب اور توانائی کے حصول کے لئے ان گیسوں کی بڑی مقدار فضا میں جمع ہو رہی ہے جو کہ سورج کی حرارت کو واپس جانے سے روک کر ہمارے ماحول کو مسلسل گرم کر رہی ہے ان گیسوں کا یہ عمل گرین ہوس اثرات کہلاتا ہے اور اس نتیجہ میں بڑھنے والے عالمی درجہ حرارت کو گلوبل وارمنگ کہتے ہیں ۔
گرین ہاوٗس گیسیں زیادہ تر ایندھن کے استمال سے پیدہ ہوتی ہیں ان کا گلوبل وارمنگ میں حصہ درج ذیل ہے۔

  1. ۔کاربن ڈائی آکسائیڈ ۵۵ فیصد
  2. ۔کلوروفلواو ۷۱ فیصد
  3. ۔میتھین ۵۱ فیصد
  4. ۔نائیٹرس آکسائیڈ ۵ فیصد

۔دیگر گیسیں ۸ فیصد
نارمل حالات میں سورج سے آنے والی 70 فیصد حرارت عرضیاتی عوامل میں استما ل ہوتی ہے اور 30 فیصد واپس خلا میں چلی جاتی ہے لیکن گرین ہاوٗس گیسیں اس 30 فیصد حرارت کو واپس خلا میں جانے سے روکتی ہیں ان گیسوں کی فضا میں مناسب مقدار ضروری ہے اور انھیں گیسوں کی وجہ سے زمیں کا اوسط درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہے اور انکی غیر موجودگی میں اوسط درجہ حرارت منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈہوتا ہے ۔
اگر ان گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج کو نا روکا گیا تو 2040 تک زمیں کا اوسط درجہ حرارت 3
ڈگری سینٹی گریڈاور صدی کے آخر تک 6 سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گا ۔
ہماری غذائی فصلوں اور دیگر نباتات کا مکمل انحصار مخصوص موسمی اور ماحولیاتی عوامل پر ہے۔لیکن یہ مخصوص عوامل گلوبل وارمنگ کی وجہ سے مسلسل نا موافق ہو رہے ہیں۔جس کی وجہ سے پودوں کے اگنے کا عمل بڑہوتری اورپھل و پھول آنے کا انحصار مخصوص ماحولیاتی شرائط پر ہے۔
گلوبل وارمنگ سے نہ صرف غذائی قلت ہو رہی ہے بلکہ ماحولیاتی تغیرات سے بارشوں کا تناسب اور بادلوں کو لانے والی ہواؤں کے رخ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔جس کی وجہ سے خط استوا اور اس کے قرب جوار کے علاقہ جات میں قحط سالی کے خطرات ہیں۔
انسان کی بہتر آسائیشوں کے لئے دوڑ، صنعتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور توانائی کے حصول کے لئے ایندھن کا بے تحاشہ استعمال آلودگی کی صورت میں ہمارے لیے وبال جان بن چکا ہے۔
گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا میں گرمیوں کا دورانیہ بڑھ رہا ہے سردی کا موسم صرف ایک ماہ اور بہار کا موسم تقریبا ختم ہو چکا ہے۔گلوبل وارمنگ خوردبینی حیات کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے۔ زمین کو زرخیز کرنے والے بیکٹیریا (Cyanobacteria , Nitrogen Fixing)متاثر ہو رہے ہیں۔خط استوا کے اطراف میں ڈینگی وبا پھیل رہی ہے۔اور اب تک 122ممالک میں پھیل چکی ہے۔
ہر سال فضا میں 850 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اضافہ ہو رہا ہے۔اور گلوبل وارمنگ میں اس کا55 فیصد حصہ ہے۔اس گیس کو جذب کرنے والاقدرتی نظام (جنگلات، نباتات)تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
پاکستان سے G.H.G(گرین ہاؤس گیسسز)کا اخراج عالمی اوسط اخراج سے کم ہے۔لیکن گلوبل وارمنگ سے متاثر ہونے والے پہلے 10ممالک میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے۔
گرین ہاوٗس گیسز کے اخراج اور اثرات کو کم کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے تحت 196ممالک کے درمیان عالمی معاہدہ 141Kyoto Protocol Agreement ہے جس کے تحت 30 نومبر تا 12 دسمبر 2015 کو 196 ممبر ممالک کی کانفرنس میں زمینی درجہ حرارت کو 2050 تک دو ڈگری سینٹی گریڈ سے کم بڑھنے کے لئے ممبر ممالک کو اقدامات کا پابند کیا گیا ہے ۔
گرین ہاوٗس گیسز کے اثرات سے بچنے کے لئے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں ۔
۔ان گیسوں کو خارج کرنے والے ایندھن کا کم سے کم استمال یامتبادل ایندھن کا استمعال یا متبادل ٹیکنالوجی ۔
۔بدلتے ماحول کے مطابق غذائی فصلوں کا انتخاب۔
۔گرین ہاوٗس گیسوں کو جذب کرنے والے نظام کی بہتری کے اقدامات یعنی جنگلات اور نباتات لگائیں۔
اگر نسل انسان نے ان گیسوں کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات نا کئے تو درج ذیل مسائل اس کی قسمت کا حصہ بن جائیں گے ۔

  1. ۔ قحط
  2. ۔خوراک کے مسائل
  3. ۔سیلاب
  4. ۔طوفانی بارشیں
  5. ۔زمینی کٹاؤ
  6. ۔مقامی فصلوں کی تبدیلی
  7. ۔غذائی زنجیر کا متاثر ہونا
  8. ۸۔جراثیمی بیماریاں
  9. ۔گلیشیر کا پگھلنا
  10. ۔اوزون کا نقصان
  11. ۔جنگلات میں کمی
  12. ۔شدید گرمی
  13. ۔ہوائی طوفان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>