موسمیاتی تبدیلی پر پالیسی سازی، ایک دیرینہ خواہش



ٓٓان دنوں پاکستان کی منتخب کردہ جمہوری حکومت خود ساختہ مسائل کا شکار ہے۔ ملک میں ہر جانب پانامہ گیٹ، جے آئی ٹی اور نواز شریف صاحب اور انکا خاندان زیرِ بحث ہے اور ہماری ریاست کا نام نہاد پانچواں ستون، میڈیا جو کہ ان دنوں ریٹنگ کے چکر میں پاگل سا ہو ا ہے۔لیکن اس چارچھ ماہ کے دورانیے میں ہم ملک میں درپیش بہت سے سنگین اورہنگامی بنیادوں پر حل طلب مسائل کو بھول گئے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف صاحب اور ان کے شہزادے اور شہزادی کے کرپٹ ثابت ہونے یا نہ ہونے سے عام آدمی کو بھلا کیا فائدہ ہوگا؟ وہ عام آدمی جو دو وقت کی روٹی تک مشکل سے کما پاتا ہے۔ وہ عام آدمی جو کہ حالیہ مون سون بارشوں کے باعث سیلاب کے پیشِ نظر پریشان ہے۔ وہ عام آدمی جوگزشتہ دنوں چلنے والی شدید آندھیوں کے باعث 60-70فیصد تباہ شدہ گندم کی فصل پر بے بس اور مجبور ہے۔وہ عام آدمی جو کہ ماہ رمضان میں ضائع ہونے والے کثیر تعداد خوراک کے عوض سارا سال اچھی خوراک کھا سکتا ہے۔یا وہ عام آدمی جوسارا سال اپنی مدد آپ کے تحت مقامی سطح پرمل کر موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے صوبائی سطح پر پالیسی سازی اور حکومتی انتظام کاری کیلئے کوششیں کرتے رہے ۔

وہ کہتے ہیں نہ کہ ” بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائے گی” ۔۔۔ تو پہلے بات کرتے ہیں ہماری نام نہاد جمہوری حکومت کی، جس کا ووٹر الیکشن کے دوران ہر وہ شخص ہوتا ہے جو کہ پچھلے دورِ حکومت میں آنے والی سیاسی پارٹی کے اُمیدواران سے اپنے وعدے پورے نہ کرنے کے باعث نئی پارٹی سے زیادہ امیدیں لگائے بیٹھاہوتا ہے۔ ان ووٹرز میں ہمارے کاشتکار بھائی بہن بھی تھے جن کوسماجی ترقی کی مد میں اگر صرف زرعی اصلاحات ہی میّسر ہو جائیں تووہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔لیکن جنکے اپنے اتنے گھمگیر معاملات ہوں وہ ان غریب کسانوں کے بارے میں سوچے کیوں؟ لیکن ہاں! ایک وقت ہے جب ان کی بھی سنی جاتی ہے اور وہ ہے الیکشن مہم کا وقت۔ جی ہاں۔ اور تب سکیمیں بھی بنتی ہیں، صحت کارڈز بھی اور کاشتکاروں کے آنسو پونچھنے والے cowboyhat پہنے ہمارے قابل احترام وزیرِاعلی صاحب کی تصویریں اور ویڈیوز بھی میڈیا پر چلائی جاتی ہے۔ لہذا بنیادی شہری حقوق کی فراہمی سے زیادہ ہمیں صوبائی دارلحکومت،لاہورمیں کی چند سالوں میں بار بار بننے والی نئی کشادہ سڑکیں، میٹرو بس، اورنج لائن اور ائیرپورٹ کی دوبارہ تعمیر ہونے جیسے بڑے بڑے پروجیکٹ زیادہ عزیز ہیں۔ پچھلے دنوں سانحہ احمد پورشرقیہ کے موقعہ پر ایک صحافی نے دورانِ ٹالک شو ،کیا خوب کہاکہ چلیں آپ لے لینا اپنی کمیشن دلپسند ممالک ترکی اور چین سے،لیکن عوام کے صحت اورتعلیم جیسے انتہائی بنیادی حق کیلئے ہسپتال اور سکول ہی بنوادیں۔

اب کچھ بات کرتے ہیں عام آدمی کے عمل اور اعمال کی۔ رواں سال پانی کی عالمی دن کے موقع پر پنجاب یونورسٹی کے ایک منعقدہ سیمینار میں شرکت کا موقعہ ملاس میں ایک ماہرسائنسی علوم طلبہ و طالبات کوپانی کی قلت کی سائنسی وجوہات سمجھانے کی بجائے کچھ یوں تاکید کر رہے تھے کہ آج اگرملکی سطح پر ہمیں پانی کی قلت کا سامنا ہے تو وہ ہمارے بد اعمال کی بدولت ہیں ۔ہم سب گناہ گار ہیں اور توبہ نہیں کرتے جسکی وجہ سے اﷲہم پر یہ عذاب نازل کر رہا ہے۔ ان محترم کی باتیں سن کر میں سوچ میں پڑ گئی کہ کیا یہ شخص جانتا ہے کہ جن نوجوانوں سے وہ اس وقت مخاطب ہے ان کے نصاب میں تکنیکی سائنس کے ذریعے پانی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل پر تحقیق تو شامل ہے لیکن انسان کے اعمال کی بحث شامل نہیں۔لیکن اگر ایک لمحہ کیلئے مان بھی لیں کہ پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلیاں اور غذائی قلت کی وجوہات ہمارے اعمال ہیں اس کا مطلب پھرتو ساری قوم دن رات کی نمازیں پڑہنا شروع کر دے اور اپنے گناہ بخشوائے۔گویا پاکستان کے شہریوں کے موجودہ حالات بلخصوص موسمیاتی تبدیلی ، پانی کی بڑھتی ہوئی شدید قلت اورغذائی قلت میں انکے عمل کانہیں کوئی عمل دخل ہی نہیں۔

ادارہ برائے تحفظِ ماحول پنجاب پچھلے تقریباً ایک سال سے لاہور ہائی کورٹ کے مجوزہ کمیشن برائے موسمیاتی تبدیلی کی راہنمائی ،پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی شراکت داری اور دیگر غیرسرکاری تنظیموں کی مشاورت سے موسمیاتی تبدیلیوں پر صوبائی پالیسی ترتیب دینے کی کوشش میں ہے۔پالیسی مسودہ پر متعدد غیر سرکاری تنظیموں نے اپنے بھی تاثرات دئیے جن میں سے بہت سے نکات کو شامل بھی کر لیا گیالیکن تاحال اصل مدعا تویہ ہے کہ پالیسی مسودمیں ہر اس عام آدمی کے حق کا خیال رکھا جائے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے چھوٹی یا بڑی کسی بھی سطح پر متاثر ہو رہا ہے، اور یقیناًپالیسی کا اسمبلی میں پیش ہونااور اصل صورت میں عمل درآمد ایک لازمی امر ہے۔ خدا کرے کہ ہر آنے والی حکومت ، اداروں کو اتنا خودمختار بنائے کہ چاہے سیا ست کا پارہ جتنا بھی ہائی کیوں نہ ہو جائے، اداروں کو صرف اپنے کام سے مطلب ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *