ماحولیاتی تبدیلیاں، آلودگی میں اضافہ اور ہماری تیاریاں ۔

دنیا بھر میں رونما ہونے والے موسمیاتی تغیرات کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی کمی کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔ یوں تو ان موسمی تبدیلیوں نے دنیا کو بری طرح متاثر کیاہے، لیکن دیگر ممالک نت نئے منصوبوں اور کوششوں کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی میں خاصی حد تک کمی لانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ نیز جنگلی بقاء کے لئے بھی مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں ایسی کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ حالانکہ وطنِ عزیز کی خوش قسمتی ہے کہ یہ ایسے خطّے میں واقع ہے جہاں مختلف موسم رنگ بکھیرتے ہیں، قدرت کی انمول نعمتیں بکھری پڑی ہیں۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث ایک طرف ہمارے جنگلات سمٹ رہے ہیں اور جنگلی حیات نایاب ہوتی جا رہی ہیں ، ملکی آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوتا چلاجا رہا ہے ، صنعتوں و فیکٹریوں کے فضلے کو پروسیسنگ کے بغیر سمندر اور دریاؤں میں بہایا جا رہا ہے ، صفائی کا ناقص انتظام اور درختوں کا بے دریغ کاٹا جانا، تو دوسری طرف ماحولیاتی آلودگی میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہے ہیں

Untitled
بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہر کوئی شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے ۔ پاکستان میں ان تبدیلیوں کے منفی اثرات عوامی سطح پر شعور کی کمی کے باعث سنجیدہ شکل اختیار کر چکے ہیں۔اور جن کو شعور ہے ان کی باتوں کو یوں کہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ جب ٹائم آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ خصوصاً شہری علاقوں میں جابجا گندگی کے ڈھیر اور فضاء میں دھواں چھوڑتی گاڑیاں صحت کے لئے مسائل پیدا کر رہی ہیں جن میں دمہ ، بلڈ پریشر ، ملیریا ، ڈینگی ، چکن گونیا ، زیکا وغیرہ اور آجکل نئی نمودار ہونے والی بیماری لاکڑا کاکڑا جیسی وائیرل بیماریاں پھیلنے سے صحت عامہ کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں ۔
وزیر اعظم پاکستان نے آٹے میں نمک کے برابر ایک نام نہاد پروگرام گرین پاکستان کا آغاز تو کیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کی یہ منصوبہ کبھی پائیہ تکمیل کو بھی پہنچے گا یا اس کا حال بھی دیگر منصوبوں جیسا ہی ہو گا، یا یہ بھی بیرونی فنڈز کا منتظر رہے گا۔ نہ فنڈز ہوں اور نہ منصوبے چلیں۔ کیا ہمارا نظام اتنا مفلوج ہو چکا ہے کہ ہم کوئی منصوبہ یا کام چلا ہی نہیں سکتے، کیا ہمارے پاس مین پاور (Man Power )نہی ہے، یا ہمارے پاس ایسے ساز گار ماحول نہیں جن میں کام کیاجاسکے، یا ہماری نیتیں نہیں ہیں کہ ہم اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہوا دیکھ سکیں ۔ صرف درخت لگانا ہی کافی نہیں اس سے آگے کی بھی حکمت عملی سوچنا پڑے گی۔ 

کیا ہمارا آج کا ایک انسان ، ایسا انسان جو صرف پیسہ کمانے کی مشین بن چکا ہے وہ ہرگز نہیں چاہے گا کہ یہ مشین خراب ہو بلکہ اس کی سر توڑ کوشش ہو گی کہ یہ مشین مسلل چلتی رہے اور پیسہ اکٹھاہوتا رہے۔ لیکن وہ بھول جاتا ہے کہ وہ جس خطہ ارض میں رہ رہا ہے وہ بھی ایک مشین ہی ہے جسے وہ اپنی کو تاہیوں ، لا پرواہیوں اور دلی تسکین کے لئے تباہ وبرباد کر رہا ہے۔ قدرت کا اصول ہے جو کہ ہم وقت کے ساتھ ساتھ شائد بھول جاتے ہیں یاپھر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جو بوؤ گے وہی کاٹو گے اور آج ہم سب یہ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور کو ئی بھی اس سے منکر نہیں۔  ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *