موسمیاتی تبدیلی اور کپاس کی بیماریاں

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اور کپاس یہاں کی ایک بہت ہی مشہور فصل ہے جو کہ ملکی استعمال کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی درآمد کی جاتی ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے موسم میں غیر معمولی تبدیلیوں کے سبب اس فصل کو مشکلات کا سامنا ہے۔ موسم کی شدت کے باعث بیماریوں کی شرح میں اضافہ ہو جاتا، نئی قسم کی بیماریاں وقوع پذیر ہوجاتی ہیں، یا پھر فصل پر بیماریوں کا حملہ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کسی بھی قسم کی سپرے سے اس کو روکا نہیں جا سکتا اور نتیجہ فصل کی تباہی ، کسان کی بربادی اور ملکی پیداوار میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ موسمی تغیر کے سبب پیدا ہونے والی بیماریاں اورفصل پر ان کے اثرات درج ذیل ہیں
سفید مکھی۔
سفید مکھی شدید گرمی اور حبس کی پیداوار ہے ، یہ پودے کے پتوں پر حملہ آور ہوتی ہے جس سے پتوں کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے اور پودا کمزور ہونا شروع ہو جا تا ہے ۔ ابتدائی حملہ کی صورت میں اگر وقت پر بارش ہو جائے تو ٹمپریچر میں کمی کے باعث اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے، بصورت دیگر گرم ہوائیں چلنے سے بھی یہ بیماری ختم ہو جاتی ہے۔ مگ گذشتہ سالوں کے تناظر میں بارشوں کا وقت پر نہ ہونا ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے فصل پر سفید مکھی کا حملہ جولائی سے ستمبرمیں شدید ہو جاتا ہے اور پھر مختلف کمپنیوں کے سپرے سے بھی بامشکل قابو کیا جاتا ہے۔ سپرے سے فصل کے اوسط خرچ میں اضافہ ہو تا ہے جو کہ چھوٹے کسان کے بس کی بات نہیں۔
تھرپس۔
تھرپس بھی شدید گرمی کے سبب فصل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ پودے کے پتوں میں خوراک کی رگوں پر حملہ آور ہوتی ہے اور اس میں اپنا زہر داخل کر دیتی ہے۔ یہ پودی کے نچلے پتوں پر انڈے دیتی ہے جن کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے۔ اگر معتدل آب و ہوانہ ملے یاوقت پر سپرے نہ کی جائے تو فصل کو تباہ کر دیتی ہے ۔
مائٹس۔
مائٹس اور تھرپس ایک ہی طرح کی بیماریاں ہیں ، فرق صرف اتنا ہے کہ مائٹس چند پودوں پر اثر انداز ہوتی ہے جبکہ ترپس پوری فصل پر
لشکری سنڈی
لشکری سنڈی کہ لشکر سے تشبیح اس لئے دی گئی ہے کہ یہ لشکر (بڑی تعداد)کی صورت میں حملہ آور ہوتی ہے، ابتداء میں یہ چند پودوں پر نظر آتی ہے لیکن اگر زرا بھی لا پروائی کی جائے تو یہ ایک ہفتہ کے اندر اندر فصل کا صفایا کر دیتی ہے۔ اس کا حملے کا طریقہ کار یہ ہے کہ یہ پتوں کو کھاتی ہے اور ان میں بڑے بڑے سوراخ کر دیتی ہے۔
گلابی اور چتکبری سنڈی
اگست کے آخر میں ٹنڈا پک کر تیار ہو جاتا ہے تو گلابی سنڈی اپنا کام دکھاتی ہے اور ٹنڈے کا اندر گھس کر اسے کھوکھلا کر دیتی ہے یہاں تک کہ ٹنڈا کھلنے سے پہلے ہے تباہ ہو جاتا ہے۔
وائرس
وائرس کا حملہ پتوں پر ہوتا ہے ۔ پتے مڑنا شروع ہو جاتے ہیں اور پودا کمزور ہونے لگتا ہے جس سے نئی کونپلیں نہیں نکل پاتی اور پودے کے بڑھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ نتیجہ پودے چھوٹے رہے جاتے ہیں اور ٹنڈوں کی مقدار بھی کم ہوتی ہے جس سے اوسط پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے۔

اوپر بتائی گئی تمام بیماریوں کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ کسانوں کو اگیتی اور پچھیتی کاشت کی بجائے موسمی تبدیلیوں کے کیلنڈر کے متعلق بتایا جائے۔ تعلیمی اداروں کو موسمی تغیرات پر ریسرچز کرنی چاہیے اور ان کی روشنی میں کسانوں کوجامع لائحہ عمل تیار کر کے دینا چاہیے۔ مختلف کمپنیوں کو اپنی ادویات اور بیج کی ورائٹی میں بہتری لانی چاہیے تا کہ موسمی تبدیلیوں اور اس میں پیدا ہونے والی بیماریوں سے موئثر طریقہ سے مقابلہ کر سکیں۔ حکومتی سطح پر جس طرح گندم کی خرید کے لئے مراکز قائم کیے جاتے ہیں اسی طرح کپاس کی کاشت کے وقت معیاری بیج کی فراہمی اور چنائی کے وقت خرید کے مراکز قائم کیے جائیں تا کہ کسان کا استحصال نہ ہو اور کپاس کی فصل ملکی پیداوار میں اپنی اہمیت بھی برقرار رکھ سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *