لاہور میں سموگ،اس کے اسباب اور سدباب کے لیے تجاویز

 

اکثر لوگ دھواں اور سموگ کو ایک جیسا سمجھتے ہیں جو درست نقطہ نظرنہیں ہے۔سموگ دراصل سورج کی شعاعیں، فوگ اور دھواں (فضائی آلودگی) کی آمیزش کے نتیجے میں بننے والی زہریلی اور آلودہ ہوا ہے۔ جب آلودہ ہوا میں موجود ہائڈروکاربن، سلفرڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور دوسرے زہریلی گیسوں کاسورج کی روشنی  کے ساتھ  ری ایکشن ہوتا ہے  تو  اس کے نتیجے میں  سموگ بنتا ہے۔   اس کا انسانی ، حیوانی اور پودوں کے زندگی پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔  سردیوں میں جب سردی بڑھ جاتی ہے تو   گیسیز سطح زمین کے نزدیک آجاتی ہیں لھذا یہ براہ راست انسان، حیوان اور پودوں پر اثر انداز ہوتا ہے ۔

لاہور پاکستان کا ایک گنجان آباد شہر اور صوبہ پنجاب کا دارالحکومت ہے۔ گزشتہ کئی دن سے  اس شہر کو سموگ جیسے  مشکل کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر بارش برسنے کی وجہ سے اب قدرتی طور پر  صورتحال نارمل ہو رہے ہیں۔  یہاں  ہم سموگ، اسباب، نقصانات پر بحث اور سدباب کے لیے چند تجاویز پیش کریں گے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے رپورٹ (۲۰۱۴) کے مطابق لاہور میں ہوائی آلودگی کی شرح ۴ سے ۱۴ گنا ذیادہ  ہے۔ اس طرح اب لاہور تقریبا  ڈھاکہ اور دہلی کے برابر خطرے میں ہے۔انہوں نے  اس کے اسباب کا جائزہ لے کر  سدباب کے لیے  منظم منصوبہ بندی  اور انوائرمنٹل  پروٹکشن ڈیپارٹمنٹ   کو فعال بنانے کی  ضرورت پر زور دیا۔    اس کے اسباب میں جنگلات کی کمی،  تیزی سے بننے والے انڈسٹریز، لوگوں کی دیہاتوں سے لاہور کی طرف ہجرت، آبادی میں اضافہ،  ڈیزل انجن گاڑیوں کا بڑھنا، سڑکوں اور تعمیرات سے اٹھتا دھواں، گاڑیوں، فیکٹریوں اور کارخانوں سے نکلنے والے زہریلی اخراج  سر فہرست ہیں۔  دوسری طرف ہواؤں کا رخ انڈیا سے پاکستان کی طرف ہونے کی وجہ سے  آلودگی منتقل ہوتی ہے۔ زراعت اور جنگلی حیات کی کمی کی وجہ سے لاہور میں سب سے زیادہ انسان سموگ سے متاثر ہوتے ہیں۔ سموگ  کی وجہ سے جہاں پودوں  کو نقصان ہوتا ہے وہیں انسانوں میں بھی اس  کی وجہ سے جسمانی طور پر بالخصوص بوڑھے، بچے اور مریض اور بالعموم عام شہری کو کھانسی، سانس لینے میں دشواری، آنکھ، سینے اور گلے میں جلن اور جلدی بیماری وغیرہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف ماحولیاتی طور پر حد نگاہ کی کمی کی وجہ سے آمد و رفت میں دشواری، منٹوں کا راستہ گھنٹوں میں طے ہونا، ٹریفک حادثات، سکول اور دفاتر کا شیڈول، بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ اور دکانوں کا بند ہونا جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔  اس سے بچنے کے لیے جتنا ہو سکے گھر سے باہر نہ نکلنا یا کم نکلنا، باہر جاتے وقت ماسک پہننا تاکہ ہوا فلٹر ہو، آنکھوں کو بار بار دھونا اور عینک لگانا، مکمل شرٹ پہننا، اگر کوئی مسئلہ ہو ڈاکٹر کو رجوع کرنا وغیرہ نہایت ضروری  ہیں۔

اس مسئلے کے سدباب کے لیے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر کام کرنا ہو گا۔ انفرادی طور پر ان افعال سے بچنا  جن لی وجہ سے سموگ بنتا ہے۔   جیسے خراب اور پرانے انجن والے گاڑیوں کا استعمال، کچرہ کو گھر کے باہر جلانا، دھواں کم سے کم پیدا کرنا، ہر گھر میں درخت لگانا اور بجلی جیسے  دوسرے  زرائع کا ذیادہ سے ذیادہ استعمال  جن سے آلودگی نہیں ہوتی ہے۔ اجتماعی ذمہ داریوں میں معاشرہ اور حکومت شامل ہیں۔ معاشرتی سطح ہرٹاؤن میں  بلدیہ کی نگرانی میں  ایسا کمیٹی ہو  جس میں ہر محلہ کی نمائندگی ہو جو اپنے ٹاؤن کے ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کرے   ۔ شجر کاری ایک مؤثر طریقہ ہے  جس سے سموگ کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ لھذا لاہور میں اس کا مہم شروع کیا جائے اور جن علاقوں میں جگہ کی کمی ہو وہاں گھر کے چھت پر کیاریاں لگا  کر اس مقصد کو حاصل کیا جا سکتا  ہے۔  حکومتی سطح پر   سب سے اہم کام یہ ہے کہاول تو انوائرمنٹل  پروٹکشن دیپارٹمنٹ کو فعال بنائیں ، اس کے وسائل میں اضافہ کیا جائے، اس کے عملہ کو تربیت دی جائے، اس  کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے  تاکہ وہ مؤثر طریقے سے  ان مسائل سے نمٹ سکے۔  دوئم کہ حکومتی پالیسی کے تحت شہر کے اندر سے کارخانوں اور فیکٹریوں کو باہر نکالنا تاکہ ان سے نکلنے والے آلودگی کو کنٹرول کر سکے۔ ڈیزل انجن گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو جامع منصوبہ کے تحت بجلی میں بدل دی جائے۔ چمنی اور دوسرے دھواں چھوڑنے والے مراکز کو شہر بدر کیا جائے، حکومتی سطح پر شجر کاری کریں۔  تیسری یہ کہ دوسرے شہروں میں بھی تعلیم و کاروبار کو فروغ دیا جائے تاکہ ہجرت میں کمی ہو   ،  چوتھی عوام میں سموگ کے نقصانات سے متعلق شعور اجاگر کریں   اور آخر میں  ہمسایہ ملک پر دباؤ بڑھایا جائے  تاکہ سرحد پار سے آنے والے آلودہ ہوا پر  قابو پا سکیں۔

تحریر: محمد یوسف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>