ہربل پیسٹی سائیڈ کا استعمال اور فصلو ں کا کیڑوں سے بچاؤ

آج کل کیمیائی زہروں کا استعمال بہت زیادہ بڑھ چکا ہے پاکستان میں سب سے زیادہ کیڑوں کو مارنے والے زہروں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ ہمارے کسان بھائی مختلف پیسٹی سائیڈ کمپنیوں کے ڈیلروں کے جھانسے میں آکر بہت زیادہ کیمیائی زہروں کا سپرے کرتے ہیں فصل کو اگر کیڑے مارنے والی ادویات کی ضرورت نہ بھی ہو تو وہ کسان کو ادویات کے استعمال پر زور دیتے ہیں ۔ہمارے کسان بھائی زیادہ سپرے استعمال کرنے سے ایک تو زمینی اور پانی کی آلودگی میں اضافہ کرتے اور اس کے ساتھ ساتھ خود بھی انہی زہروں کا شکار بنتے ہیں ۔پاکستان میں کیمیائی کیڑا مار ادویات کے کاروبار کرنے والی کمپنیاں صرف پیسہ کمانے کے چکر میں ہیں ۔ اب کسانوں کو چاہئے کہ وہ ہربل پیسٹی سائڈ مطلب پودوں سے بنائی جانے والی کیڑا مار ادویات استعمال کریں۔اس کی مثال نیم کے درخت کی ہے ۔ نیم کے درخت کی بارک اسکے پتے اور بلخصوص بیج میں ایک قدرتی کیمکل پایا جاتا ہے جسکو ایزاڈائییریکٹن کہتے ہیں ۔
جنوبی پنجاب کے کچھ علاقوں میں چھوٹے لیول پے کاشتکاروں نے نیم کے پتوں کے رس کا استعمال کرتے ہوئےکپاس کے کیڑوں کو کنٹرول کیا ہے ۔

 اس کے علاوہمارکیٹ میں نیم آئل  کی ہربل پیسٹی سائیڈ بھی دستیاب ہے جس کو کسان بھائی سبزیوں پر حملہ کرنے والے کیڑوں پر چھڑکاؤ کر سکتے ہیں ۔
سبزیوں پر کیمیائی زہر جیسے کہ ٹرائیزوفاس اور ڈیلٹا میتھرین یہ بہت مضر صحت ہیں ۔ایسی سبزیاں کھانے سے انسانوں میں کینسر، یرقان اور معدے کی بیماریوں ہو سکتی ہیں اور کئی کئی سالوں تک اِن کیمیائی ادویات کا اثر انسانی جسم سے ختم نہیں ہوتا ہے ۔ ان خطرات کی وجہ سے دنیا بھر میں ایسی زرعی پیداوار کی ترجیح دی جا رہی ہے جو کیمیائی آلودگی سے پاک ہوں۔  کسان بھائیوں کو چائئے کہ وہ کیمیائی طریقہ سے   کیڑوں کو کنٹرول کرنے کا طریقہ ترک کر کے نئے طرز کے  کنڑول جیسے کہ  بائیولوجیکل کنٹرول  (کیڑوں کو انکے قدرتی دشمن کا استعمال کرتے ہوئے کنٹرول کرنا)  یہ دو سرے فیزیکل کنڑول جیسے کی گلابی سنڈی کو کنڑول  کرنے کا بہترین طریقہ جنسی اور روشنی کے پھندے استعمال کر کے کرنا ہے ۔  یہ پھندے گلابی سنڈی کے پروانے کو مار کر اسکو  مزید پھیلنے سے کنٹرول کرتے ہیں ۔کسانوں کو چائیے کہ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ   کیڑوں کو ماحول دوست طریقوں کاستعمال کرتے ہوئے  کنڑول کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *