ہماری سوچ میں مثبت تبدیلی اور بنیادی انسانی حقوق کی تعلےم

حقوق حق کی جمع ہے اور حق سے مراد ایک ایسا مفاد ہے جس کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حق اور ضرورت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ہر انسان کو پیدائش سے چند بنیادی حقوق مل جاتے ہیں مثلاً زندگی جینے کا حق ،آزادی رائے کا حق ،معلومات لینے کا حق ،مل جل کر بیٹھنے کا حق ۔انسانی حقوق کی تحریک میں ہر دور کے علمائ، صوفیا اور انقلابی رہنماﺅں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے احتجاج میں آواز بلند کی ہے۔ اس تحریک کے باقاعدہ آغاز کا سراغ روم اور یونان سے ملتا ہے اور اس سلسلے میں ہمورابی کا قانون بہت اہمیت کا حامل ہے اور زندگی کے تمام پہلوﺅں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ تحریک مختلف مراحل میں سے گزرتی ہوئی ایک عالمی منشور پر آکر رکی جس نے اس تحریک کو باقاعدہ اور منظم شکل دی۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں کروڑوں جانوں کے نقصان کے بعد اقوام عالم نے ایک معاہدہ قبول کیا جس کی پہلی شق کے مطابق تمام انسان بلا تفریق رنگ ونسل برابر ہیں۔ اس معاہدے کو دنیا میں انسانی حقوق کے عالمی منشور (UDHR) کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ 10دسمبر1948کو منظور کیا گیا، اس کی 30 شقیں ہیں جو انسانیت کو تمام بنیادی حقوق دینے کی ضامن ہیں۔ آج 192ممالک اس معاہدے کو قبول کرتے ہیں اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ انسانی حقوق کو لوگوں تک پہچانے کا طرےقہ بھی خود کار سسٹم کی طرح ہونا چاہیے۔ ےعنی لگاتار ، مسلسل چلنے والا سسٹم۔ شروع سے لے کر آخر تک تمام لوگوں کو ہر قسم کے حقوق حاصل ہونے چاہیے۔

جےسا کہ رےاست ہم عوام سے اےک خود کار نظام کے تحت ٹےکس لےتی ہے مگر اسکے بدلے مےں ہمےں وہ بنےادی حقوق سے محروم رکھتی ہے ۔ ےہاں مےں تھوڑا ٹےکس کے تفصےل بتاتا چلوں ٹےکس دو طرح کے ہوتے ہےں :

براہ راست محصول /ٹےکس :  جیسا کہ لفظ سے ہی ظاہر ہے کہ اےسامحصول جو عوام خود جا کر حکومت کے اکاﺅنٹ مےں جمع کرائے براہ راست محصول کہلاتاہے۔ مثلاً پراپرٹی کی خریدوفروخت پر یا پھر کوئی لائسنس بنوانے پر یا پھر گاڑی ، ادارہ وغیرہ رجسٹر کروانے پر حکومت عوام سے ٹیکس لیتی ہے ۔

بالواسطہ محصول /ٹےکس : وہ محصول جو کہ ہم لوگ با لواسطہ طرےقے سے ادا کرتے ہےں۔ مثلاً مختلف کمپنیاں اپنے اوپر لگنے والے محصول قیمت میں شامل کر دیتی ہیں سیلز ٹیکس وغیرہ۔جیسے گورنمنٹ ٹیکس لینے کے لیے براہ راست ےا بلا واسطہ طرےقہ استعمال کرتی ہے اسی طرح انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے بھی اےک خود کار طر ےقہ ہونا چاہیے۔ اگر ہم اندازہ لگائیں تو ایک سیاسی حلقے میں ایک دن کا ٹیکس تقریباً 50 لاکھ روپے جمع ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا ٹیکس جمع کرانے والوں کو کیا حکومت ان کے حقوق بہم فراہم کر رہی ہے؟

معاشی ترقی جہاں ریاستی انتظام وانصرام کے لیے سرمایہ کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔ وہیں نجی وبیرونی سرمایہ کاری معاشی تفریق کو بھی جنم دینے کا سبب بنتی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری جو کہ بین الاقوامی ادارے کرتے ہیں، اگر مناسب ضبط میں نہ رکھے جائیں تو ملکی سرمایہ کا بہاﺅ بیرون ممالک ہونے سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا جاتا ہے لیکن آج ہمارا ملک غیر ملکی امداد کے سہارے چل رہا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان نے اپنی آزادی کے 65سالوں کا ایک طویل عرصہ فوجی اکثریت کے تسلط میں گزارا ہے جس کی وجہ سے جمہوری عمل شدیدمتاثر ہوا ہے۔ انسانی حقوق اور معاشی ترقی کا جائزہ کچھ اعداد وشمار سے لگایا جاسکتا ہے۔

2010تک پاکستان میں 12948صحت کے ادارے کام کررہے تھے ان میں مریضوں کے لیے بستر کی تعداد 104137تھی اور ہسپتالوں کی کل تعداد 104137تھی۔ کل ڈاکٹرز 14490اور 73244نرسز تھیں۔ یعنی ہر چار ہزار افراد کے لیے پانچ معالج اور دو نرسز کا تناسب بنتا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے باوجودصحت کے لیے بجٹ میںخام ملکی پیداوار (G.D.P)کا2.4فیصد مختص کیا گیا ۔ کل آبادی کے صرف 48فیصد تک صاف پانی کی دستیابی ہے۔ مہنگائی 11.1فیصد اور بیروزگاری کی شرح 7.5فیصد ہے۔

پاکستان کی برآمدات کازر مبادلہ 25.35ارب جبکہ درآمدات کا 35.82ارب روپے ہے۔ نتیجتاً پاکستان میں معاشی اور معاشرتی عدم استحکام کی صورت حال شدید ابتر ہوتی جارہی ہے اور اس نے پاکستان کو ناکام ریاستوں میں 12نمبر پر لاکھڑاکیا ہے جوکہ 2010میں 10پوزیشن تک جاچکا تھا۔

ہمارے گردونواح میں با اثر افراد نے سیاست کو ذاتی کاروبار یا جاگیر بنا لیا ہے۔ ہم لوگ بھی ووٹ کاسٹ کرتے وقت اپنی محلوں کے چودھریوں کو سامنے رکھتے ہیں ۔ کسی بھی پارٹی کا منشور یا قیادت کے نظریات کی قدر نہیں کرتے ۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ ووٹ صرف اور صرف پارٹی منشور یا پھر پارٹی قیادت کے فیوچر پلان کو سامنے رکھ کر کاسٹ کرتے ہیں۔ وہاں سیاست ایک ادارہ ہے جو بھی اہل ہو گا اسے موقع ملے گا۔ جبکہ ہمارے ہاں سیاست موروثیت کا شکار ہے ، ایک اےم۔اےن۔اے کا بیٹا ہے اگلی دفع اےم۔اےن۔اے کا امیدوار بنے گا۔ پارٹی کے دوسرے کسی رکن کو اجازت نہیں ملتی۔ یہاں ہمارے سیاسی حقوق کو قتل کیا جا رہا ہے۔ چونکہ ہم ووٹ غلط کاسٹ کرتے ہیں اس لیے سزا بھی ہمیں کو بھگتنا پڑتی ہے۔ہمارہ معاشرہ 5 معاشرتی ستونوں پر کھڑا ہے۔

1۔ خاندان2۔ تعلیم3۔ مذہب4۔ اکنامکس 5۔ سیاست

ہماری سوچ کی بنیاد ہمارے خاندان سے شروع ہوتی ہے جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو ہم ہمارے آس پاس ہونے والے عوامل کو آہستہ آہستہ اپنا لیتے ہیں۔کیونکہ میں آج جہاںہوں ، جو بھی ہوں، اور جیسے ہوں یہ سب ایک حادثاتی بنیاد پر مبنی ہے۔ میرا مذہب میں نے خود نہیں چُنا کیونکہ میرے دادا کا یہ مذہب تھا اور پھر یہ میرے باپ کو منتقل ہوا اور پھر اِسی طرح مجھے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ طرز فکر میں تبدیلی کا پہلا سبب خاندان ہے۔ دُنیا میں ہزاروں زُبانیں بولی جاتی ہیں جو کہ حالت و واقعات اور ضروریات کی پیش نظر سامنے آئیں۔ لیکن آج ہر زبان کی اپنی الگ پہچان ہے ۔ اِس طرح مذاہب بھی مختلف ہیں اور ہر کسی کو ایک دوسرے کے عقیدے اور ایمان کی عزت کرنی چاہیئے۔ قرآن پاک میں کہیں بھی رب المسلمین نہیں لکھا گیا بلکہ رب العلمین لکھا گیا ہے۔ اور یہی ہمارا جمہوری رویہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کریں۔ جب ہم جمہوریت جمہوریت کی آواز لگاتے ہیں تو پہلے یہ سوچ لینا چاہئیے کہ کیا ہمارے رویے اور ہمارے گھروں میں جمہوریت ہے؟ اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہمارے اندر جمہوری رویے نہیں ہیں اور کوئی ایسا ادارہ بھی نہیں جو جمہوری رویوں کے فروغ کے لیے کام کرتا ہو۔ اِسی طرح ہماری سوچ میں تبدیلی کے لیے ہماری کمیونٹی بھی کارفرما ہوتی ہے اور کمیونٹی میں ہماری درسگاہیں اور سکول بھی شامل ہیں۔ اور ہمارے سکولوں میں جو نصاب ہمیں پڑھایا جاتا ہے اُس سے ہماری سوچ کی مزید تر قی ہوتی ہے لیکن وہ مثبت ہے یا منفی یہ نصاب پر منحصر ہے۔ ہمارے ملک پاکستان کے آئین میں بھی انسانی حقوق شامل ہیں لیکن جب تک ہمیں یہ پتا ہی نہیں کہ ہمارے حقوق کیا ہیں اور ہم کس سے وہ حقوق مانگ سکتے ہیں یہ کون ہمارے حقوق دینے کا مجاز ہے اُس وقت تک حقوق کا حصول نا ممکن ہے۔ اور ہماری درسگاہوں اور سکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں انسانی حقوق کی تعلیمات کا کہیں بھی ذکر نہیں جبکہ یورپین ممالک میں پانچویں جماعت تک طالب علموں کو اُن کے بنیادی حقوق کا پتا چل جاتا ہے۔

چنانچہ ہماری سوچ میں مثبت تبدیلی کے لیے ہمیں بنیادی انسانی حقوق کا پتا ہونا بہت لازم ہے اور اِس کے لیے انسانی حقوق کی تعلیم کا عام ہونا بہت ضروری ہے۔ اور لوگوں کو یہ پتا ہونا چاہئیے کہ حق کیا ہوتا ہے اور اُسے کیسے اور کہا سے حاصل کرنا ہے۔ اِس کے لیے ریاست کا کردار مثبت ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ ریاست ایک ماں ہوتی ہے اور جس طرح ہماری سوچ کی بنیاد ہمارا خاندان ہے اُسی طرح سوچ میں مثبت تبدیلی کے لیے ریاست کردار بھی اہم ہے

Devastating Taxes Culture in Pakistan

We can’t breathe without tax and not live easily in the country because the tax is must for the development and betterment of all countries. It supports government revenue for the expenditures of the country.  We must have regularly pay the taxes and follow the policies on tax given by the government. It’s the duty of every citizen to pay tax either it is direct or indirect in return government is responsible for providing basic facilities, which includes education, health, shelter and food for the poor and deprived class of society who are not able to survive with the capitalist society.

There are four types of taxes which generates the economy of our countries such as general sales tax, customs duty, central excise duty, and income tax.

This time Pakistan’s current taxation system is defined by Income Tax ordinance 2001 which was promulgated on 13 September 2001 and became effective from 1 July 2002. This time the sales tax rate in Pakistan stands at 17% percent it is a high tax rate in Pakistan only for the poor people.  The concerned administration should work on low tax rate as peoples could live with comfort in the country.

There are many causes of tax evasion in Pakistan which are, poor government, Poor tax culture, political interfere, poor policy, poor taxation. The tax evasion is one of the gigantic problems for Pakistan. There are many issues for the lower or lower middle class of society which is not able to pay tax but indirectly they are paying their taxes, on the other hand, the society who owns the massive economy of country like conglomerates or capitalist tycoons of Pakistan and go through the list of the parliamentarians issued by FBR in which it is mentioned how much tax they paid it is very disgusting.

Pakistani society consists of the two main classes such as elite and middle class.

Elite class does not have any kind of concern with tax problems they always play the game of power like feudal, Choudhry’s,  politicians, bureaucrats, Businessmen and they don’t matter with other peoples and government facilities to rich people. (PS: All the mentioned classes in elite classes are not equal; there are also some patriots who are sincere with the country.)

There has been always conflicting among between middle class and government for the survival of their lives, they fight for their rights and they pay more tax than the elite class of society. This society does not know about their rights, the civil society and literate peoples of society must have to educate them about their rights, this initiative could bring positive change among us, it could take time but it would be better for the whole middle and lower middle class who is unaware of their right.

Being a responsible citizen of the country, we should take an oath that from today we will educate the deprived people about their responsibilities and their rights.

There are many worst effects on the society when it comes to flooding of tax on particular things which is commonly paid by the majority of middle class. To some extent, corruption is the main reason for the bad policy of politicians and they all involve in the debate today’s issue of crime depend also on the root cause. Concerned authorities have to realize that and bring positive changes in taxation on equality based and they should be friendly for every citizen. How worst condition is this, that every newborn child in Pakistan is indebted of 60000 thousand

If we discuss on the current tenure of the government, they didn’t take any serious steps on the improvement of the economy.  We could not able to say that their performance is appreciable or government report card is significant. We won’t see any improvement in near future so government must have to take any serious notice. According to a recent report of think tanks in four years in four year, PML-N completed only 6 targets out of 89, External debt which was 61 billion dollars and it has increased to 83 billion dollars and internal debt which was 5491 billion it has increased to 15045 billion rupees.

In addition, to report the government’s privatization and reform program was also failed to perform, PIA’s Loss was more than 316 billion, Pakistan Steel Mill’s loss reached to 176 billion, Pakistan railway also affords the loss of 27 billion yearly, The tax-to-GDP rate target was 15 percent that could not reach to quarter of 10 percent but government still claims that unemployment has been reduced from country.

 

 

Climate Change and Urbanization

Pakistan ranks high in the countries that are most vulnerable to the climate change threat. According to ADB, by the end of 21st century, the temperature in the majority of the Asian countries will reach inhabitable levels. A temperature rise of 6 degrees Celsius is expected in the Asian countries, with an increase of 8 degrees Celsius in Pakistan, Afghanistan, Tajikistan, and China.

We are already experiencing the climate change related impacts in Pakistan in form of hot summers, rising sea levels, unpredictable rainfalls, floods, droughts, and human displacement and these impacts will only grow worse in near future. This rising temperature and heat waves will not only endanger lives but will also disrupt the national economy, weather conditions, agricultural output, industries, and trade. It will deepen the vulnerabilities at all levels and will undermine any hope of achieving inclusive and sustainable development.

But solely blaming nature and climate change for Pakistan’s increasing vulnerability is not right. We need to move beyond our limited outlook and look at the multi-faceted reality of climate change impacts. A significant feature in this context is rapid urbanization and the related environmental degradation that amplifies Pakistan’s vulnerability to climate change. Incompetent urban planning, deforestation, industrialization, incompetent engineering, and land mining for development have degraded urban ecologies that could have better endured the climate change impacts. For example, Karachi, the industrial hub of Pakistan, is facing recurrent floods not only because of rainfall variability but also due to illegal developments that choke the city’s natural drainage system.

So, one of the biggest challenges that Pakistani government and policymakers are facing today is the transformation of cities into sustainable and environmentally friendly spaces. The top-down governance, the jurisdiction of federal and provincial authorities over land use, and a fragmented structure of local governance have given city mayors and chief ministers free reign over urban planning and their actions are limited to beautification projects and free transport corridors.

Authorities need to overcome the ongoing political struggles over resources, infrastructures, and services and need to focus on climate change adaption in the context of extended urbanization that pays attention to urban design, land use, and zoning interventions. The present condition of cities in Pakistan requires a proactive action that reshapes our cities and makes them environment-friendly spaces.

ملڪي سطح تي خواجه سرائن جي اهميت ۽ کين مهيا ٿيل سهولتون

زرعي معاشري ۾ موجوده  مختلف ٽيبوز صدين کان اڃان تائين ساڳئي شدت سان موجود آهن. انهن ٽيبوز مان هڪ اهو به آهي ته  گھر ۾ جڏهن ٻار جنم وٺندو آهي. ته گھر ڀاتين جون ڪيفيتون به ٻار جي جنس مطابق تبديل ٿينديون آهن . اگر پٽ ڄمي ته سموري گھر ڀاتين جي چهري تي خوشي واري ڪيفيت جھلڪي پوندي آهي. جيڪڏهن نياڻي ڄمي پوي ته نه چاهيندي به سمورن ڀاتين جي چهري تي رنج واروراڪاس لڪائڻ باوجود به لڪي ناهي سگھندو، ڪنهن نه ڪنهن صورت ۾ جهلڪي پوندو آهي. پر ڪڏهن ڪڏهن ڪنهن گھر جي ڀاتين جي حالت  مرڳوئي مجرمانه ٿيو پوي، جڏهن ان گھر ۾ پيدا ٿيندڙ ٻار نه پٽ هوندو آهي نه وري ڌيءُ ، اهڙي گھرن ۾ ان وقت قهرام مچي ويندو آهي. نه صرف سمورو گھر پر سمورو معاشروبه اهڙي ٻار کي قبول ڪرڻ لاءِ تيار نه هوندو آهي. اهڙي ٻار جو انت آڻڻ لاءِ سمورا هٿڪنڊا جڏهن هلي ناهن سگھندا تڏهن ئي هو ساهه کڻڻ لاءِ معاشري ۾ ڦٽو ڪيو ويندو آهي. سندس والدين معاشري ۾ رسوائي جي  خوف کان ڪيترا ئي ڏينهن ٻار جي سڃاڻپ لڪائيندا آهن.

انهي ڪيفيت ۾ اهو ٻار جڏهن سمجھ لائق ٿئي ٿو. ته هو هڪ وڏي ذهني اذيت  ۾ مبتلا ٿيو وڃي. سماج جا منفي رويه اهڙي ٻار کي باقي ٻارن کان الگ ڪري بهاريو ڇڏين. جڏهن ته اهو به هڪ انسان آهي ڪنهن به سماج ۾ بنيادي انساني  حقوق مطابق اهڙن ماڻهن جو به پورو پورو حق هوندو آهي. ته هو به کليل هوا ۾ آزادي سان  ساهه کڻي سگھن.

پاڪستان جي آئين جي  آرٽيڪل نمبر 25 موجب قانون جي نظر ۾ سڀ شهري برابري جي حيثيت رکن ٿا ۽ برابري جي بنياد تي قانوني تحفظ جا حقدار آهن. محض جنس جي بنياد تي ڪنهن به شهري سان امتيازي سلوڪ نه ڪيو ويندو.  جڏهن ته انساني حقن جي آرٽيڪل نمبر 2 ۾ پڻ واضع نموني لکيل آهي ته سمورا انسان آزاد پئدا ٿيا آهن. عزت، وقار ۽ حقوق  جي سلسلي ۾ برابري جي حيثيت جا حامل آهن. پر بدقسمتي سان اسانجي سماج ۾ پيڙهيل طبقن کي وڌيڪ ذلتن  ڀري زندگي گذارڻي پوي ٿي ۽ کين نيچ ڏيکارڻ  لاءِ نت نوان طريقا استعمال ڪيا وڃن ٿا.

جنهن جو وڏو مثال خواجه سرا  جي سڃاڻپ ۽ مڃتا آهي، جيڪا انهن کي نٿي ڏني وڃي. معاشرو خواجه سرائن جي  تعليم حاصل ڪرڻ ۾ وڏيون رڪاوٽون وجھندو آهي جنهن سبب هو تعليم حاصل ڪري ناهن سگھندا. اهڙي ڏکين حالتن مان گذري اگر ڪو خواجه سرا ٿوري گھڻي تعليم پرائي وٺي ته وري معاشري جا مهذب کيس عزت ڀريو روزگار حاصل ڪرڻ جي راه ۾ رڪاوٽون وجھندا آهن. غلطي سان جيڪڏهن اهڙي خاص ماڻهون کي ڪو عزت ڀريو روزگار حاصل ڪرڻ ۾ ڪاميابي  ملي به وڃي. ته هو پنهنجي بدني بناوت ۽ لباس جي ڪري   گڏ ڪم ڪندڙن جي نظرن جو مرڪز هوندو آهي. وڏي ڳالهه ته هن سماج جا ماڻهون انهن کي پاڻ سان گڏ هلائڻ به عيب سمجھن ٿا. پر جيڪڏهن اسين پنهنجي پاڙيسري ملڪ انڊيا تي نظر وجھنداسين ته اسان کي محسوس ٿيندو ته اتان جي حڪومتن ۽ سول سوسائيٽي خواجه سارائن کي معاشري ۾ عزت ڀريو مقام مهيا ڪرڻ لاءٌ منجھائن ڪجھ خواجه سرائن کي  ٽيڪس وصولي واري اداري ۾ روزگار ڏئي سندن  جون اسپيشل ٽيمون ٺاهي کين ٽيڪس وصولي لاءِ معمور ڪري ڇڏيو آهي. هو هر سال لڳ ڀڳ 1000 هزار ڊالر پراپرٽي ٽيڪس وصولي ڪري حڪومت کي جمع ڪرائن ٿا. پر اسان وٽ ته هي مظلوم ڪنهن نه ڪنهن صورت ۾ صرف ٽيڪس ڏين ٿا.

عزت ڀريوروزگار نه ملڻ ڪري هو مجبور ٿي ڳائي وڄائي، نچي ماڻهن کي خوش ڪري خيرات  وٺي گذران ڪن ٿا ڪي وري جسم فروشي جھڙو غلط پيشو اختيار ڪري  پيٽ جي باه وسائن ٿا ۽ سر لڪائڻ لاءِ اجھي جو بندوبست
ڪن ٿا.

2009ع ۾پاڪستان  سپريم ڪورٽ هڪ آرڊر پاس ڪيو. جنهن ۾ خواجه سرائن جي قومي شناختي ڪارڊ ۾ کين جنس واري ڪالم ۾ خواجه سرا لکائڻ جي اجازت ملي.

عام طور تي ڏٺو وڃي ته هي به انسان آهن. صرف سندن بدني بيهڪ جي ڪري ٻين کان الڳ آهن. پوءِ انهن ۾ ڪي عورت هوندا آهن ته ڪي وري مرد، ڪي قدرتي خسرا هوندا آهن. ته ڪي وري هٿرادو ٿيندا آهن. پر سماج انهن کي بلڪل مختلف نظرن سان ڏسي ٿو. اگر ڏهن ماڻهن ۾ هڪ خواجه سراهه هجي ته مرداڻي معاشري ۾ ماڻهون ٻين کي ڇڏي صرف ان کي ئي  نظرن جو مرڪز بڻائيندا آهن. پوءِ ان صورت ۾ هو يا ته گھٻرائجي ويندا آهن. يا ته ڪاوڙ ۾ زر ٿي ويندا آهن. ٻئي ڪيفيتون انهن لاءِ نقصان جون حامل هونديون آهن.

هن ملڪ جي آئين مطابق کين اليڪشن ۾ حصو وٺڻ جو حق آهي . جنهن تحت هو 2013 واري اليڪشن ۾ سرگرم رهيا. پنهنجن حقن کي پاڻمرادو حاصل ڪرڻ لاءِ هو ڪوششون وٺهندا رهيا. ڏسڻو اهيو آهي ته  ايندڙ اليڪشن ۾ هي پنهنجي جستجو کي ڪيئن جاري رکي سگھندا. جڏهن ته موجودا آدمشماري مطابق سندن سراسري ڳڻپ سڄي پاڪستان ۾ صرف 10،000 آهي.جڏهن ته هڪ اندازي مطابق صرف لاهور شهر ۾ خواجه سرائن جو انگ ڏه هزارن کان مٿي آهي  انهي عالم ۾ جڏهن هنن جي آبادي ڪنهن سازش تحت گھٽ ڄاڻائي وئي آهي. ته پوءِ ڇا کين اهي انسان ووٽ ڏيندا؟ جيڪي کين پاڻ سان گڏ وهاريندي به عيب ٿا سمجھن.

اسان جي معاشري ۾  خواجه سرائن کي  برداشت ڪرڻ جي اهڙي صورتحال آهي ته پوءِ ته اهيو ڪيئن ممڪن آهي ته هي مظلوم طبقو پنهنجو آواز وس وارن تائين پهچائي  ته جيئن ملڪ ۾ انهن لاءِ به اهي سڀ سهولتون مهيا ٿين. جهڙيون ٻين انسانن لاءِ موجود آهن. يا کين به معاشرتي ليول تي  ٻين جهڙو سمجھيو وڃي.ڇو ته خواجه سراه جي بدن ۾ به اهو ئي رت گردش ڪري ٿو جيڪو ڪنهن ٻيءِ انسان جي بدن ۾ هوندو آهي . ڳالهه صرف سمجهه جي آهي. هي جنس  به اسان جي سماج جو هڪ اهم حصو آهن.